کراچی میں نجی ٹی وی کے دفتر پر حملہ‘تھوڑپھوڑ‘ پتھراؤ۔صحافتی تنظیموں کی مذمت

70

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ قوم پرست مظاہرین نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملہ کردیا،مظاہرین جیو کے مزاحیہ پروگرام میں مبینہ طور پر سندھیوں کا مذاق اڑانے پر مشتعل تھے ، جیو کے پروگرام کے اینکر ارشاد بھٹی نے معاملے پر وضاحت جاری کر دی تھی، جنگ نے حملے کی پیشگی اطلاع کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ کیے جانے پر سخت احتجاج اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد کی مصروف آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع جیو اور جنگ کے دفتر پر اتوار کی سہ پہر سندھی قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد ایک ریلی کی صورت میں احتجاج کے لیے دفتر کے باہر پہنچے تاہم وہ باہر احتجاج کرنے کے بجائے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دفتر کے اندر داخل ہوگئے۔حملہ آوروں نے واک تھرو گیٹ اور مرکزی دروازے کے تمام شیشے توڑ دیے۔حملہ آوروں نے گارڈز سمیت استقبالیہ پر موجود افراد کیمرہ مینز اور ڈی ایس این جی اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دفتر پر پتھراؤ بھی کیا جبکہ حملہ آور آزادانہ کارروائی کے بعد دفتر کے باہر دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ اس احتجاج کا اعلان کئی روز پہلے کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود حملے کے وقت پولیس اور انتظامیہ موقع سے غائب تھی۔ دفتر کے مرکزی دروازے پر دھرنے کی وجہ سے عمارت میں موجود جنگ اور جیو نیوز کا عملہ جس میں خواتین ورکرز بھی شامل تھیں محصور ہو کر رہ گیا۔ مظاہرے کا اعلان جیو نیوز کے پروگرام خبر ناک کے ایک حصے پر کیا گیا تھا اور جیو نیوز اگلے ہی پروگرام میں اس پر وضاحت بھی نشر کر چکا تھا۔ جیو نیوز کے محاصرے کو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس اور انتظامیہ نے احتجاج ختم کرانے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی تاہم بعد میں صوبائی وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ جیو نیوز کی انتظامیہ نے واقعے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جیو نیوز کی انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ احتجاج سب کا بنیادی حق ہے لیکن تشدد اور توڑ پھوڑ کسی مسئلے کا حل نہیں اورانتظامیہ اس معاملے پر اپنا قانونی حق استعمال کرے گی۔علاوہ ازیںوزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، مراد علی شاہ نے جیو نیوز کے سی ای او اظہر عباس کو فون کرکے بتایا کہ پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے میں جوبھی ملوث ہوگا ہم اس کے خلاف کارروائی کریںگے۔ قبل ازیںصوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جیو کے دفتر پر جو کچھ بھی کیا گیا اس کی مذمت کرتے ہیں ،جو بھی ملوث ہیں اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا،احتجاج پر امن طریقے سے سب کا حق ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے دفتر کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیاہے،جو بھی نقصان ہوا ہے سندھ حکومت اس کا ازالہ کرے گی، تمام لوگوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، ایف آئی آر بھی ہوگی اور ایکشن بھی ہوگا ، جیو کی انتظامیہ کہے گی توایکشن ہوگا ،جو لوگ شرپسند ہیں ان کی نشاندہی اوران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔