( این اے :221)تھر پارکر ضمنی انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کو بدترین شکست‘ پیپلزپارٹی جیت گئی

47

تھرپارکر (مانیٹرنگ ڈیسک) تھرپارکر کے حلقہ این اے221میں ضمنی انتخاب میں318 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار پیر امیر علی شاہ ایک لاکھ 5302لے کر کامیب جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار نظام الدین راہموں 50553ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ قومی اسمبلی تھرپارکر 221 میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سمیت 12 امیدوار مدمقابل تھے۔ اس حلقے میں ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 81 ہزار 900 ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہی۔حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی کل تعداد 318 ہے جن میں سے 95 انتہائی حساس اور 130 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔حلقے میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں 4 ہزار پولیس اہلکاروں، ایک ہزار رینجرز کے جوانوں سیکورٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی پیر نور محمد شاہ جیلانی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔قبل ازیںتحصیل چھاچھرو کے علاقے کیسرار سموں کے علاقے میں واقع گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول میں قائم پولنگ اسٹیشن میں آگ لگا دی گئی۔آگ لگنے کے باعث پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے متاثر ہوا جسے بعد میں بحال کر دیا گیا ۔ واقعے کے بعدسیکورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امان اللہ سمون سمیت 4 کارکنوں کو حراست میں لیا۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ رٹرننگ آفیسر میاں محمد شاہد نے کہا کہ گزشتہ روز صبح پولنگ اسٹیشن نمبر 126 کے پرزائیڈنگ آفیسر نے ٹیلیفون کے ذریعے آگ لگنے کی اطلاع دی اور بتایا کہ پولنگ اسٹیشن بلڈنگ کے اندر جہاں پولیس عملے کا سامان رکھا تھا وہاں آگ لگ گئی ہے اور ساتھ رکھے بیلٹ باکس کو جزوی طور پر متاثر ہوئے ۔پرزائیڈنگ آفیسر کی درخواست پر فوری طور پر اسٹنٹ رٹرننگ افسر اے سی چھاچھرو کو بیلٹباکس فراہم کردیے گئے جس کے بعد پولنگ کا عمل بحال ہو گیا ۔دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 221 تھرپارکر ون میں ضمنی الیکشن کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نظام الدین راہموں نے الزام عاید کیا ہے کہ کیسرار سموںپولنگ اسٹیشن پر دھماکا کیا گیا۔ انہوں نے اپنے وڈیو بیان میں کہا کہ سندھ پولیس ڈی ایس پی کی نگرانی میں میرے مخالف کی مدد کر رہی ہے ، میرے ایجنٹ گرفتار کیے گئے اور میرے ووٹرز کو بھگایا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور الیکشن کمیشن واقعہ کا نوٹس لیں۔