سینیٹ انتخابات: پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں سے رابطے‘ایم کیوایم کے مبہم مطالبات

46

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطحی وفد کی راجا ہاؤس آمد ،حروں کے روحانی پیشوا جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگاراسے ملاقات کی، ملاقات میں سینیٹ انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،پی ٹی آئی کے وفد میں عبد الحفیظ شیخ، محمدمیاں سومرو،اسد عمر،فردوس شمیم نقوی اور دیگر موجود تھے جبکہ جی ڈی اے کے وفد میں سید صدرالدین شاہ راشدی، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم،ڈاکٹر صفدر عباسی، ڈاکٹرذوالفقارمرزا،سردار عبدالرحیم،عارف مصطفی جتوئی ،عرفان اللہ مروت اور دیگر شامل تھے،ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جی ڈی اے کے مرکزی رہنما سید صدرالدین شاہ راشدی نے کہا کہ آج کی ملاقات میں یہ طے پایہ ہے کہ پی ٹی آئی ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم مشترکہ طور پر سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں گے،جس سے ہمارے ووٹ بڑھیں گے،5 سیٹیں ہماری ہیں،جس میں 3 جنرل ، ایک ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی سیٹ شامل ہے، عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پچھلے 5 برس میں ڈالر کو جان بوجھ کر نیچے رکھا گیا تاکہ پاکستانی باہر کی چیزیں پسند کریں، مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور سخت فیصلے کرنے پڑے ، بیرونی خسارہ اب مثبت ہوگیا ہے،عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت بڑھی تو ہمیں بھی بڑھانی پڑی ،ماضی کی حکومتوں نے اتنے قرضے لیے جنہیں اتارنا ہے،عوام کو قیمت کے بوجھ سے کے لیے سبسڈی دی جارہی ہے۔علاوہ ازیںایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن فیصل سبزواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ شہری سندھ کے احساس محرومی کو دور کیا جائے،ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف مشترکہ طور پر مردم شماری کے نتائج پر تحفظات رکھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجی گئی کابینہ سفارشات میں نئی مردم شماری جلد کرانے کی تجویز ہے، ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے نئے بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی جائے جس پر اتفاق ہوا ہے،آج پی ٹی آئی کے وفد کے ساتھ تمام نکات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی ہے اور ایم کیو ایم پاکستان نے ایک حلیف جماعت کی حیثیت سے ہم نے اپنا اصولی موقف رکھا ہے جبکہ وفاقی وزیر اسد عمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے مشترکہ نکات پر گفتگو کی ہے اور اتحاد سے ہی مل جل کرمسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ،آج کی ملاقات میں سینیٹ کے انتخابات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی ،تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ سینیٹ کے انتخابات شفاف طریقے سے ہوں لیکن سندھ کی صوبائی حکومت کا رویہ غیر جمہوری ہے جس کا ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بندوبست کریں گے، ایم کیو ایم پاکستان ہماری اتحادی جماعت ہے اور ہم نے ہمیشہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر حفیظ شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن یں بڑا جوش و خروش نظر آرہا ہے لیکن اس الیکشن میں کوئی خرید و فروخت نہ ہو پوری کوشش کریں گے ،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے کوئی بھی حکومت خوش نہیں ہوتی بلکہ مجبوری اور معاشی حالات کے سبب آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے ،کراچی میں اگر ملازمتیں پیدا کرنی ہے تو کاروبار کو بڑھانا ہوگا۔قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر PTIکے وفدنے  وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی۔