مودی کا متوقع دورہ۔ مقبوضہ کشمیر فوجی چھاؤنی میں تبدیل

65

سرینگر (اے پی پی )بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام نہاد متوقع دورے پر مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا گیا،سیکورٹی اقدامات کے نام پر پابندیاں مزید سخت ، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں تیزی، متعدد نوجوان گرفتار، وادی کے کئی علاقوں کے داخلی و خارجی راستے بند، عارضی چیک پوسٹیں قائم ، کئی مقامات پر بکتر بند گاڑیاں اور پیرا ملٹری فورسز نے گشت ، اضافی فوجی نفری تعینات کردی گئی ،دوسری جانب حریت قائدین نے بھارتی وزیراعظم کے دورہ کشمیر پر وادی میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے جبکہ سری نگر سمیت کئی علاقوں میں مودی کے دورہ کشمیر مسترد کرنے کے بڑی تعداد میں پوسٹر چسپاں کر دیے گئے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں مزید ناکے لگا دیے گئے ہیں اور چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جبکہ شہرکی سڑکوں پر بھارتی فورسز اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ سرینگر کے علاقوں لالچوک، جواہر چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، ریگل چوک، ٹی آر سی چوک، پولو گرانڈمیں بھارتی فورسز کے اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں ۔ ضلع بانڈی پورہ میں پاپا چھن برج کے نزیک 2نوجوان گرفتار کیے گئے ۔ فوجیوں نے بڈگام اور راجوری اضلاع کے علاقوں شمس آباد خانصاحب اور کانگری کو بھی محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کی کارروائی عمل میں لائی۔ محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں تیزی کو مودی کے آئندہ ہفتے مقبوضہ علاقے کے متوقع دورے کے لیے کی جارہی ہیں۔دریں اثنا سری نگر اور مضافاتی علاقوں میں پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے متوقع دورے کے موقع پر مکمل ہڑتال کریں۔ پوسٹروں میں کشمیری مودی کے دورے کو قطعی طورپر مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ کشمیریوں کے قاتل ہیں اور وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی ہندوئوں کو آباد کر کے یہاں کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو بھارت کے لیے چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارتی فسطائیت عالمی سطح پر بے نقاب کر دی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت نے ایسے قوانین اور پالیسیاں بنائی ہیں جن کے تحت مسلمانوں اور حکومت کے ناقدین سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں گزشتہ ہفتے قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کے گھروں کی مسماری کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے پر کشمیری صحافی سجاد گل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حاجن شاہگنڈ کے رہائشیوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انہیں مکانوں کی مسماری کے خلاف مزاحمت کرنے پر قابض انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کشمیر پریس کلب نے ایک بیان میں صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر سخت تشویش کااظہار کیا ہے۔ادھر مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق حقوق کے ناقص ریکارڈ پر جرمنی نے اپنی دو فرموں کو بھارت کو چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے سے روک دیا ہے۔ کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ڈی ٹیلی گراف نے 2 بھارتی سیکورٹی افسروں کا حوالہ دیتے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دو جرمن کمپنیاں کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کی وجہ سے بھارت کو ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے لائسنس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔