شیشم سے کینسر کا علاج

522

شیشم کا درخت جسکی لکڑی مشہور ومعروف ہے اور پاکستان اور بھارت میں بکثرت پایا جاتا ہے اور اس کا طبی فوائد بھی  بہت ہیں ۔

شیشم  پاکستان اور دنیا کے کئی ملکوں میں پایا جانے والا ایک عام درخت ہے اور اسے ٹالی یا ٹاہلی بھی کہتے ہیں اور یہ میدانی علاقوں سے لے کر 1500 میٹر کی بلندی تک پایا جاتا ہے جبکہ یہ درخت 10 سے لے کر 30 میٹر تک بلند ہوتا ہے اور اس کے تنے کا گھیراؤ 2 سے 4 میٹر تک ہو سکتا ہے۔

نومبر دسمبر میں شیشم درخت کے پتے گر جاتے ہیں اور جنوری فروری میں نئے آتے ہیں جبکہ پتے شروع میں ہلکے سبز ہوتے ہیں جو بعد میں گہرے سبز ہو جاتے ہیں اور مارچ اپریل میں اس پر پھول آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق  شیشم کی لکڑی مضبوط پائیدار اور لچک دار ہوتی ہے اور اس لیے یہ فرنیچر، عمارتی سامان اور بے شمار دوسری چیزوں کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق  اگر کسی شخص کو کینسر جیسی جان لیوا بیماری لگ گئی ہو  (کسی بهی طرح کا کینسر ہو) تو جوکینسر کی دوائی  مریض کی چل رہی ہوں انہیں جوں کی توں چلنے دیں اور وه اپنے مریض  کو شیشم کے درخت  کے پتوں کا (پانچ ماشے سے ساتهہ ماشے تک) رس نکال کر پلانا شروع کردیں۔

ماہرین کے مطابق 10سے15دنوں تک صبح وشام کهالی پیٹ شیشم کے پتوں کا رس پلائیں  اور اسکے بعد شیشم کے پتوں کوہر روز  چبانا شروع کردیں۔

تحقیق کے مطابق  دیکهتے ہی دیکهتے کینسر کے مریض میں شاندار تبدیلی نظر آجائیگی اور اسی طرح پابندی سے پتوں کو چباتے رہیں تو انشا ءاللہ کینسر جیسی خطرناک اور وحشت ناک بیماری جڑ سے ختم ہوجائیگی۔

دوسری جناب شیشم کے اور بهی بہت سے فوائد ہیں جیسے اسکی لکڑی کا برادہ تصفیہ خون کی غرض سے آتشک، جزام، برص، خارش، پہوڑے،  پهنسیوں اور بهی دیگر امراض جلدیہ میں نقوعا مستعمل ہے۔

شیشم کا شربت بناکر بهی پیٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور چمرس (جوتے کی رگڑ) سے جو زخم پاؤں میں ہوجاتا ہے تو اسکے لیے پتوں کو پیس کر استعمال  کرنا بہت مفید ہے۔

خیال رہے شیشم سوزش کو تسکین دیتا اور زخم کیسا بهی ہو اسکو خشک کر دیتا ہے اور اسی وجہ سے  کینسر میں مستعمل ہے۔