سعودی فوج میں خواتین کی بھرتیوں کا آغاز

209

ریاض: سعودی وزارت دفاع کے احکامات کے بعد خواتین کے سعودی افواج میں بھرتی کے سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ داخلے کی تمام شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

بین الاقومی میڈیا کے مطابق خواتین کے سعودی افواج میں بھرتیوں کے سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے  اور سعودی وزارت دفاع کے احکامات کے بعد مردوں کے علاوہ خواتین بھی فوج میں تعیناتی کی درخواست دائر کر سکیں گی۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق اتوار سے آن لائن پورٹل کے ذریعے سعودی فوج میں داخلے کے لیے درخواست دائر کرنے کے سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے اور  سعودی عرب کی آرمی، ایئر فورس، نیوی، سٹریٹیجک میزائل فورس اور میڈیکل سروس میں سپاہی سے لے کر سارجنٹ تک کی تعیناتیوں کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق تمام درخواست گزاروں کو طبی لحاظ سے تندرست ہونے کے علاوہ داخلے کی تمام شرائط پر پورا اترنا ہوگا، تاہم خواتین کے لیے اضافی شرائط رکھی گئی ہیں۔

وزارت دفاع اعلامیے کے مطابق  کوئی بھی خاتون سرکاری ملازم فوج میں بھرتی ہونے کی اہل نہیں ہیں، اس کے علاوہ متعلقہ خواتین کو 21 سے 40 سال تک کی عمر کا ہونا چاہیے اور ان کا قد 155 سینٹی میٹر (5 فٹ 1انچ) یا اس سے زیادہ ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔

خیال رہے خواتین درخواست گزاروں کے لیے سکول کی تعلیم ہونا لازمی ہے اور اس کے علاوہ ان کے پاس ذاتی شناختی کارڈ ہونا چاہیے جبکہ غیر ملکی سے شادی کرنے کی صورت میں سعودی خاتون فوج میں بھرتی کی اہل نہیں ہوسکتیں۔

وزارت دفاع اعلامیے کے مطابق مردوں کے لیے 17 سے 40 سال کی عمر کی شرط کے علاوہ کم از کم قد 160 سینٹی میٹر ہونے کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ سعودی وزارت دفاع حکام کی جانب سے بھرتیوں کے اس نئے معیار پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

حالہ الینابوی نے بتایا ہےکہ سعودی خواتین کی فوج میں تعیناتی گزشتہ تیس سالوں سے متنازع موضوع ہے لیکن شاہ سلمان نے خواتین کی تمام شعبوں میں شمولیت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ ایک اور سعودی شہری راحما الخیری کا کہنا تھا کہ خواتین کی ملٹری میں شمولیت انتہائی اہم اقدام ہے ، جہاں وہ متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔

واضح رہے سعودی شہری راحما الخیری کا کہناتھا کہ تاریخ میں کبھی بھی نہیں سنا کہ کوئی خاتون میدان میں آئی اور لڑی ہوں، صرف مرد ہی میدان میں لڑتے تھے۔