فلسطین میں انتخابات کا اعلان – مسعود ابدالی

142

متحارب فلسطینی گروہ مئی میں پارلیمانی اور جولائی میں صدارتی انتخابات پر رضامند ہوگئے۔ ان انتخابات میں حماس، اسلامی جہاد اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO)سمیت درجن بھر تنظیموں نے حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

انتخابات پر گفتگو سے پہلے جدید فلسطین کی تاریخ پر چند سطور… جو دراصل ظلمِ عظیم کی ایک داستان ہے۔ اختصار کے لیے ہم یہ ذکر ارضِ مقدس پر تاجِ برطانیہ کے دورِ نامسعود سے شروع کرتے ہیں۔

29 ستمبر 1947ء کو اقوام متحدہ نے فلسطین پر تاجِ برطانیہ کے قبضے کو ملکیتی حقوق عطا کردیے، جس کے بعد برطانیہ نے دو قومی نظریے کے مطابق فلسطین کو عرب اور یہودی علاقوں میں بانٹ دیا۔ تقسیم میں ویسا ہی ”انصاف“ کیا گیا جس کا مظاہرہ ایک سال پہلے تقسیم ہندوستان کے وقت ہوا تھا۔ یعنی آبادی کے لحاظ سے 32 فیصد یہودیوں کو فلسطین کا 56 فیصد علاقہ بخش دیا گیا، جس پر اسرائیلی ریاست قائم ہوئی۔ فلسطینیوں کو اپنی ہی ریاست کی 42 فیصد زمین عطا ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام پیدائش بیت اللحم سمیت سارا بیت المقدس مشترکہ اثاثہ یا Corpus Separatum قرار پایا۔ نوزائیدہ اسرائیلی ریاست کے یہودی باشندوں کی تعداد پانچ لاکھ اور عربوں کی تعداد 4 لاکھ 38 ہزار تھی، دوسری طرف فلسطین میں 10 ہزار یہودی اور 8 لاکھ 18 ہزار عرب آباد تھے۔ بیت المقدس کی آبادی ایک لاکھ تھی جہاں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی تعداد تقریباً برابر تھی۔

تقسیم کا اعلان ہوتے ہی اسرائیلیوں نے جشن آزادی کے جلوس نکالے، اور ان مسلح مظاہرین نے عرب علاقوں پر حملے کیے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں تقسیم پر عمل درآمد اور اس کے بعد اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن قائم رکھنے کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد کی گئی تھی۔ لیکن یہ ذمہ داری برطانیہ نے کچھ اس طرح ادا کی کہ فلسطینی آبادیوں کے گرد فوجی چوکیاں قائم کرکے انھیں محصور کردیا اور اسرائیلی دہشت گرد برطانوی چوکیوں کی آڑ لے کر بہت اطمینان سے فلسطینی بستیوں کو نشانہ بناتے رہے۔ مسلح اسرائیلیوں کے حملے میں ہر ہفتے 100 کے قریب افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق برطانوی فوج کو مئی 1948ء تک علاقے کی نگرانی کرنی تھی، لیکن برطانوی فوجیوں نے مارچ سے ہی اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کردیا۔ عربوں نے الزام لگایا کہ جاتے ہوئے برطانوی فوجیوں نے اپنا اسلحہ اسرائیلیوں کے حوالے کردیا تھا۔

عربوں کے اس شبہ کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ برطانوی فوج کی واپسی سے ایک ماہ پہلے 5 اپریل 1948ء کو اسرائیلی فوج یروشلم میں داخل ہوگئی، حالانکہ معاہدے کے تحت مشترکہ اثاثہ ہونے کی بنا پر بیت المقدس میں فوج تو دور کی بات، کسی شخص کو چھری بھی لے کر جانے کی اجازت نہ تھی۔ فلسطینیوں نے بیت المقدس میں مسلح اسرائیلیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن جدید اسلحے سے لیس اسرائیلیوں نے اس مزاحمت کو کچل دیا۔ تصادم میں سیکڑوں فلسطینی مارے گئے جن میں ان کے کمانڈر اور مفتی اعظم فلسطین امین الدین حسینی کے بھتیجے عبدالقادر حسینی بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ تقسیمِ فلسطین عارضی ہے اور اسے ریاست کی بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن برطانیہ کی واپسی کے ساتھ ہی یہودی رہنما ڈیوڈ بن گوریان نے Eretz Yisrael(ارضِ اسرائیل یا ریاست اسرائیل) کے نام سے ایک ملک کے قیام کا اعلان کردیا، جسے امریکہ اور روس نے فوری طور پر تسلیم کرلیا ۔اُس وقت ہیری ٹرومن امریکہ کے صدر اور مشہور کمیونسٹ رہنما جوزف اسٹالن روس کے سربراہ تھے۔

ریاست کے اعلان سے فلسطینیوں میں شدید اشتعال پھیلا اور جگہ جگہ خونریز تصادم ہوئے۔ اس دوران جدید اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کو بھون کر رکھ دیا۔ مظاہروں کو کچل دینے کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی بستیوں کو گھیر لیا اور 7 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ کی طرف دھکیل دیا گیا، اور وہ بھی اس طرح کہ بحرروم کی ساحلی پٹی پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کرکے سمندر تک رسائی کو ناممکن بنادیا۔ گویا کھلی چھت (Open Air) کے اس عظیم الشان جیل خانے میں 12 لاکھ فلسطینی ٹھونس دیے گئے۔ قبضے کی اس مہم میں فلسطینیوں سے مجموعی طور پر 2000 ہیکٹر اراضی چھینی گئی۔ ایک ہیکٹر 10000 مربع میٹر کے برابر ہوتا ہے، یعنی 2 کروڑ مربع میٹر۔ فلسطینیوں کا جبری اخراج 15 مئی 1948ء کو مکمل ہوا جسے فلسطینی ”یوم النکبہ“ یا بڑی تباہی کا دن کہتے ہیں۔ فلسطینیوں کی ان کے گھروں سے جبری بے دخلی کے بعد 1967ء اور 1973ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل نے مزید عرب علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

محرومیوں کے باوجود فلسطینیوں نے آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔ ابتدا میں تنظیم آزادی فلسطین (PLO)فلسطینی عوام کی نمائندہ تنظیم تھی، جس کا سیاسی و عسکری دھڑا الفتح کے نام سے سرگرم تھا۔ جناب یاسرعرفات تنظیم کے بانی اور سربراہ تھے، جنھیں پوری قوم کی حمایت حاصل تھی۔ جب 1979ء میں مصری صدر انوارالسادات نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد فلسطینیوں کو ہتھیار رکھ کر مذاکرات کی میز پر آنے کا مشورہ دیا تو عام فلسطینیوں نے اسے اپنی پشت میں خنجر زنی سمجھا اور اکثریت نے صدر سادات کے مشورے کو رد کردیا۔ اس دوران اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے فلسطینیوں کو شدید نقصان پہنچا اور جنگجو عناصر میں یہ خیال عام ہوا کہ یاسر عرفات بھی اب مسلح مزاحمت کے بجائے سفارت کاری کا ہتھیار استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ 1987ء میں مشہور عالمِ دین اور روحانی شخصیت شیخ احمد یاسین نے حماس کی بنیاد رکھ دی۔ حماس کے بانی امام حسن البناؒ کی فکر سے متاثر تھے۔ یاسرعرفات خود بھی شیخ یاسین کے عقیدت مند تھے اور انھوں نے کہا کہ میں الفتح کا قائد اور حماس کا کارکن ہوں۔

فلسطین کے پہلے عام انتخابات منعقدہ 1996ء میں جناب یاسرعرفات 90 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے، جبکہ ان کی حریف بائیں بازو کی محترمہ سمیحہ خلیل المعروف ام خلیل نے10 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ پارلیمانی انتخابات میں الفتح نے المجلس التشریعی الفلسطین (قومی اسمبلی) کی 88 میں سے 50 نشستیں جیت لیں اور 35 نشستوں کے ساتھ آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ ان انتخابات میں حماس غیر جانب دار رہی لیکن شیخ یاسین کی ہمدردیاں یاسرعرفات کے ساتھ تھیں۔ شدید بیماری کے بعد نومبر 2004ء میں یاسرعرفات انتقال کرگئے اور 2005ء کے صدارتی انتخابات میں محمود عباس 67 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ جانب محمود عباس اپنی کنیت ”ابومازن“ کے نام سے مشہور ہیں۔

یہاں آخری آزادانہ انتخابات 25 جنوری 2006ء کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوئے۔ اس طرزِ انتخاب میں لوگ براہِ راست سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور ہر جماعت کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کے تناسب سے انھیں نشستیں عطا کردی جاتی ہیں۔ ہر انتخابی حلقے میں آزاد امیدوار کا نام بھی بیلٹ پر درج ہوتا ہے یعنی جماعت کے بجائے آزاد امیدوار کے حق میں بھی رائے دی جاسکتی ہے۔گزشتہ انتخابات میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا اور ووٹ ڈالنے کا تناسب 76 فیصد سے زیادہ رہا۔

اسرائیل نے ان انتخابات میں حماس کی شمولیت پر اعتراض کیا تھا۔ اسرائیل حماس کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ یہی نقطہ نظر اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے اس معاملے پر براہِ راست امریکی صدرسے بھی بات کی، لیکن جارج بش نے مؤقف اختیار کیاکہ انتخابات میں حصہ لینے سے حماس کا رویہ نرم و متوازن ہوجائے گا۔ امریکی سی آئی اے کا خیال تھا کہ حماس صرف غزہ میں مقبول ہے اور وہاں بھی اسے واضح اکثریت نہیں مل سکے گی۔ اسرائیلی اخبارات کے سارے جائزوں میں کہا جارہا تھا کہ انتخابات میں ابو مازن (محمود عباس) کی الفتح جیتے گی، حماس کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لیے نہ مالی وسائل ہیں اور نہ یہ جنگجو مولوی پڑھے لکھے فلسطینیوں کو اپنی جانب مائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران اسرائیلی فوج حماس رہنمائوں کا تعاقب کرتی رہی۔ اس کے ایک ہزار سے زیادہ کارکن گرفتار کرلیے گئے۔ اسرائیلی حکومت نے انتخابی جلسوں پر پابندی لگادی تھی، جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن اور اخبارات پر صرف الفتح کو اشتہار کی اجازت تھی۔ اُس وقت سوشل میڈیااتنا موثر نہ تھا۔ سڑکوں پر بینر بھی غیر قانونی قرار دے دیے گئے۔ بلدیہ بیت المقدس کی حدود میں حماس کا داخلہ ممنوع تھا۔ حماس کی ساری انتخابی مہم گھر گھر دستک، گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات اور مساجد میں نمازوں کے بعد تعارفی نشستوں تک محدود تھی۔ ان پابندیوں کی بنا پراسرائیلی حکومت اور الفتح کو حماس کی قوت کا اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ ہر طرف الفتح کے پھریرے لہرا رہے تھے۔ حماس کی نوجوان خواتین نے گھرگھر جاکر ایک خاموش انقلاب برپا کردیا۔ انتخابی جائزوں کے برعکس حماس نے ان انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی اورقومی اسمبلی کی 132 میں سے 74 نشستیں جیت کر اسرائیل کو حیران کردیا۔ الفتح نے 45 اور عرب قوم پرست پاپولر فرنٹ نے 3 نشستیں حاصل کیں۔ تین دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

انتخابات کے بعد مارچ 2006ء میں اسماعیل ہانیہ وزیراعظم بنائے گئے۔ جناب ہانیہ نے مشترکہ قومی حکومت بنانے کے لیے الفتح کو دعوت دی۔ حماس وزارت ِعظمیٰ الفتح کو دینے پر راضی تھی، لیکن الفتح کے مرکزی رہنما صائب عریقات نے صاف صاف کہا کہ حماس کے ساتھ مخلوط حکومت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حماس ذرائع کا خیال ہے کہ اسرائیل اور مصر کے کہنے پر محمود عباس نے حماس سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ فلسطینیوں میں اخوان کی مقبولیت پر اسرائیل اور خلیجی ممالک کو شدید تشویش تھی۔ پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ حماس ”جنونی جہادیوں“ کا گروہ ہے، اور ان انتہا پسندوں کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں۔ تاہم انتخابی نتائج نے اسرائیل، مصر اور خلیجی ممالک کے ساتھ فلسطینی سیکولر عناصر کو بھی اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا کردیا تھا۔ حماس نے غزہ کے ساتھ مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن میں بھی کامیابی حاصل کی تھی، حتیٰ کہ یروشلم، بیت اللحم، رام اللہ اور غزہ کے مسیحی علاقوں میں بھی حماس کی کارکردگی اچھی رہی۔

الفتح کی جانب سے صاف انکار کے بعد حماس نے انتہائی متوازن کابینہ تشکیل دی، جس کے ارکان کی اکثریت دو ریاستی فارمولے اور آزاد فلسطین کے عوض اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حامی تھی۔ لیکن فلسطینیوں کی نئی انتظامیہ کو اسرائیل اور امریکہ نے تسلیم نہیں کیا۔ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو بھی حماس کے بارے میں شدید تحفظات تھے۔

حکومت کی تشکیل کے صرف تین ماہ بعد غزہ کے قریب فلسطینیوں کے ایک مظاہرے پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور اس دوران مظاہرین نے ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کرلیا۔ اپنے سپاہی کی بازیابی کے لیے اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملہ کردیا اور خوفناک بمباری کرکے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ حماس کے کئی ارکانِ اسمبلی کو اسرائیلی فوج نے گرفتار کرلیا۔ کچھ دن بعد اسرائیلی فوج دریائے اردن کے مغربی کنارے پر چڑھ دوڑی اور رام اللہ میں مقتدرہ فلسطین کے سیکریٹریٹ سے وزرا، ارکانِ اسمبلی اور حماس کے رہنمائوں کو اٹھا کر لے گئی۔

اسرائیل نے وزیراعظم ہانیہ سمیت ارکانِ قومی اسمبلی اور حماس کے رہنمائوں کی نقل و حرکت محدود کردی۔ اسی کے ساتھ بزعمِ خود فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کے لیے قائم کیے جانے والے چار فریقی ادارے (Quartet)نے بھی فلسطینی حکومت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس پر مشتمل Quartetجو ایک غیر جانب دار ادارہ تھا، حماس حکومت ختم کرنے کے لیے یکسو ہوگیا۔ اس سے شہ پاکر اسرائیل نے فلسطینی حکومت کے وزرا اور اہلکاروں پر غزہ، بیت المقدس اور غرب اردن کے درمیان سفر پر پابندی لگادی۔ اقوام متحدہ کے معاہدے کے تحت بحر روم کی اشدود بندرگاہ سے حاصل ہونے والا محصول اسرائیل اور مقتدرہ فلسطین میں تقسیم ہوتا ہے۔ وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے ایک حکم کے تحت محصولات سے فلسطینیوں کا حصہ معطل کردیا۔ دوسری طرف الفتح کا سیکولر طبقہ اسرائیل اور امریکہ کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس کو ہمیشہ کے لیے کچل دینا چاہتا تھا۔ حماس نے صورت حال بھانپتے ہوئے ماہرین (ٹیکنوکریٹس) کی کُل جماعتی حکومت کی تجویز پیش کی جسے الفتح نے ترنت مسترد کردیا۔ اسرائیل کی جانب سے محصولات کے انجماد سے فلسطینی حکومت سخت مشکلات میں مبتلا ہوگئی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے پیسہ نہ رہا۔ الفتح ان ملازمین کو سڑکوں پر لے آئی۔ جلد ہی سیاسی مظاہرے حماس اور الفتح کے درمیان فوجی تصادم میں تبدیل ہوگئے۔

ترکی اور قطر کی کوششوں سے فروری 2007ء میں الفتح اور حماس ہتھیار رکھ کر مخلوط حکومت بنانے پر راضی ہوگئے۔ فلسطینیوں کو امید تھی کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ پابندیاں ختم کردیں گے، اور اشدود بندرگاہ سے آمدنی میں فلسطینیوں کا حصہ ملنا شروع ہوجائے گا۔ لیکن الفتح نئے وزیراعظم کی نامزدگی ٹالتی رہی اور 15 جون 2007ء کو صدر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کو برطرف کرکے سلام فیاض کو وزیراعظم نامزد کردیا۔ حماس نے اس پر احتجاج کیا، لیکن اسرائیل نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ اور حماس کو غزہ تک محدود کردیا۔ اسرائیل اور مصر نے غزہ کی ناکہ بندی کردی۔ فلسطین عملاً دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، یعنی حماس کے زیرانتظام غزہ اور الفتح کے زیر اثر ٖغرب اردن۔

فلسطین کی اس تقسیم کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ خوفناک بمباری، آہنی باڑھ کی دوسری جانب سے مہلک گولہ باری روزمرہ کا معمول ہے۔ اس کے علاوہ بحر روم سے اسرائیلی بحریہ بھی فلسطینی ماہی گیروں اور ساحل پر کھیلتے بچوں پر نشانے بازی کی مشق کرتی ہے۔

ترکی اور قطر ایک عرصے سے الفتح اور حماس کے مابین مصالحت کی کوششیں کررہے ہیں، لیکن اسرائیل اور اُس کے خلیجی اتحادیوں نے ان تمام کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنادیا۔ گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات اور بحرین، پھر سوڈان اور مراکش نے جب اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرلیے تو فلسطینیوں نے خود کو دیوار سے لگا محسوس کیا اور قیادت پر مصالحت کے لیے عوامی دبائو بڑھا۔ ترک صدر اردوان نے نومبر میں الفتح اور حماس کے ساتھ دوسری فلسطینی تنظیموں کو انقرہ مدعو کیا۔ اس ملاقات پر اسرائیل نے اقوام متحدہ جانے کی دھمکی دی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے حماس کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ دہشت گرد رہنمائوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ترک حکومت کی جانب سے میزبانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن تل ابیب کی اس شکایت کو پذیرائی نہ مل سکی۔

کچھ عرصہ پہلے محمود عباس نے مصر سے مصالحت و ثالثی کی درخواست کی تھی۔ غزہ سے نکلنے کا راستہ صحرائے سینا میں کھلنے والا باب رفح ہے، اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث حماس کے لیے انقرہ کے مقابلے میں قاہرہ جانا زیادہ آسان ہے۔ گزشتہ ہفتے قاہرہ مذاکرات میں الفتح، الجہاد، حماس اور فلسطین کی تمام تنظیموں نے انتخابات میں حصہ لینے اور انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سازی میں مکمل تعاون کا عہد کیا۔

بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ عوامی دبائو کی بنا پر فلسطینی آپس کے اختلافات ختم کرکے آزادانہ انتخابات کے ذریعے ایک نمائندہ حکومت کے قیام پر رضامند ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی اتفاق 2006ء میں بھی ہوا تھا، لیکن اسرائیل نے حماس کی کامیابی کو تسلیم نہیں کیا، اور اب بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آنے والے انتخابات میں حماس دوبارہ کامیاب ہوگئی تو کیا ہوگا؟ اسماعیل ہانیہ کہتے ہیں کہ حماس کا ہدف فلسطین کی آزادی ہے، اور انھیں حکومت و اقتدار سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر انتخابات میں ان کی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کرلی تب بھی مخلوط قومی حکومت حماس کی ترجیح ہوگی۔

بدقسمتی سے اس دنیا نے اسلامی جماعتوں کی انتخابی کامیابیوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ الجزائر میں پہلی بار آزادانہ بلدیاتی انتخابات جون 1990ء میں منعقد ہوئے، جس میں اسلامک سالویشن فرنٹ نے 54 فیصد ووٹ لے کر ملک کی 48 میں سے 31 بلدیات جیتیں، اور پھر دیانت دارانہ خدمت سے عوام کے دل جیت لیے۔ ڈیڑھ سال بعد جب دسمبر 1991ء میں عام انتخابات ہوئے تو قومی اسمبلی کی 430 میں سے 232 نشستوں پر فرنٹ کے امیدوار کامیاب ہوئے اور بقیہ 198 نشستوں پر فرنٹ پہلے یا دوسرے نمبر پر تھی، لیکن چونکہ کسی امیدوار نے مطلوبہ 50 فیصد ووٹ نہیں لیے تھے اس لیے ان نشستوں پر پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والوں کے درمیان دوسرے مرحلے کے انتخابات ہونے تھے جنھیں run-off کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر فوج نے مداخلت کی، اور انتخابات منسوخ کرکے اسلامک سالویشن فرنٹ کے خلاف خوفناک فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔ فروری 2002ء تک جاری رہنے والے آپریشن میں اسلامک فرنٹ کے 3 لاکھ کارکن ذبح کردیے گئے۔ فرنٹ کے خلاف کارروائی کے لیے فرانس، تیونس، جنوبی افریقہ اور مصر نے اپنے فوجی دستے بھیجے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ مصر میں پیش آیا جب پارلیمانی انتخاب جیتنے کے بعد اخوان سے وابستہ حریت و انصاف پارٹی کے ڈاکٹر محمد مرسی 2012ء کے انتخابات میں 52 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کو مصر کی تاریخ کا پہلا منتخب صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، لیکن حکومت سبنھالنے کے صرف ایک سال بعد نوزائیدہ جمہوریت کو فوجی بوٹوں سے پامال کردیا گیا۔ فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے ہزاروں کارکن جاں بحق ہوئے، درجنوں پھانسی چڑھے، اور اخوان المسلمون کے مرشدِ عام (امیر) سمیت ہزاروں رہنما آج تک عقوبت کدوں کی زینت ہیں۔ ڈاکٹر مرسی دورانِ حراست ہی انتقال کرگئے۔

اس تاریخی پس منظر اور اسرائیل کے رویّے کو دیکھ کر اس بات کی امید بہت کم ہے کہ آنے والے انتخابات فلسطینیوں کے لیے مثبت تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکیں گے۔

(This article was first published in Friday Special)