سینیٹ الیکشن میں سرپرائز دینگے ،یا شاک 3 مارچ کو پتا چلے گا،مرتضیٰ وہاب

73
کراچی: جامعہ کراچی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس میں شیخ الجامعہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو شیلڈ پیش کررہے ہیں

کراچی(نمائندہ جسارت)ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں سرپرائز دیں گے یا شاک یہ 3 مارچ کو پتا چلے گا۔تحقیقات کررہے ہیں کہ حلیم عادل شیخ کے کمرے میں سانپ چھوڑا گیا یا خود چھڑوایا گیا۔جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اگر قانون ہاتھ میں لے گا اور کار سرکار میں مداخلت کرے گا تو قانون اس کے خلاف حرکت میں آتا ہے، حلیم عادل شیخ کیساتھ ہمارے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں تاہم انہیں کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ پولنگ کے دن پی ایس 88 کے پولنگ اسٹیشنز کے دورے کریں، انہوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی بلکہ اپنے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد لیکر گئے اور حلقے میں فائرنگ بھی کی گئی جس کے بعد قانون حرکت میں آیا، عدالت کی جانب سے بھی ریمانڈ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شواہد موجود تھے جس کی بنیاد پر عدالت نے ریمانڈ دیا اور پولیس کو مزید تفتیش کی اجازت دی اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ پنجاب کے حلقہ این اے 75 میں پولنگ عملہ کے غائب ہونے سے متعلق سوال پر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ دھند کی آڑ میں اگر دھاندلی کی کوشش کی گئی ہے تو اس کی مذمت کرتا ہوں، سندھ میں ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی نے سوئپ کیا ہے اور تحریک انصاف کو جو ووٹ 2018 میں ان حلقوں سے ملا تھا ضمنی انتخاب میں اس کا 20 فیصد ہی مل سکا ہے۔بلوچستان میں بھی پی ڈی ایم نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ نوشہرہ میں پی ٹی آئی نے 2018 میں سیٹ جیتی تھی اس سیٹ پر ضمنی انتخاب میں پی ڈی ایم کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ضمنی انتخابات کے نتائج سے واضح ہوا ہے کہ عام عوام پی ڈی ایم کے بیانیے سے متفق ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی نااہل حکومت ناکام اور عوام دشمن ہے، ضمنی الیکشن تحریک انصاف کی حکومت کےلیے ریفرنڈم تھا جس میں عوام نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ووٹ دیا ہے، یہی اصل پریشانی ہے عمران خان کو پتا ہے کہ ان کے ارکان اسمبلی پر عوام کا دباو¿ بڑھتا جارہا ہے اور ان کے اپنے ارکان اسمبلی سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کی اے ٹی ایمز کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔اس لیے وہ دھونس کی زریعے اور سپریم کورٹ کے ذریعے آئین میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی اے ٹی ایمز کو سینیٹ الیکشن میں کامیاب کراسکیں، ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ جس طرح عام آدمی کا حق رائے دہی ہے اسی طرح ارکان اسمبلی کا بھی حق رائے دہی ہوتا ہے اور ان ارکان پارلیمان کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ کے استعمال اجازت ہوتی ہے، صرف 4 صورتوں میں ارکان اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتے جب وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا الیکشن ہو یا فنانس ایکٹ یا آئینی ترمیم ہو۔اس کے علاوہ ہر بل میں ارکان اسمبلی اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرسکتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ارکان اسمبلی کا ضمیر جاگ گیا ہے اور پی ٹی آئی کی اے ٹی ایمز کو ووٹ نہیں دیں گے