فوجی صنعت پر 20 ارب ڈالر لگانے کا سعودی منصوبہ

83

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب نے مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کا بڑا منصوبہ تیار کرلیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس سلسلے میں سعودی حکومت نے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے، جو آیندہ 10 برس کے دوران کی جائے گی۔ دفاعی صنعت کے سربراہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ سعودی عرب مقامی فوجی صنعت کو ترقی دینا اور اس کے ذریعے ہتھیار بنانا چاہتا ہے، اس مقصد کے لیے 2030ء تک فوجی بجٹ کا 50 فیصد مقامی طور پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ اعلان دبئی میں دفاعی کانفرنس میں خطاب کے دوران سعودی فوجی صنعتوں کی جنرل اتھارٹی (جی اے ایم آئی) کے سربراہ احمد بن عبدالعزیز العوہلی نے کیا۔ واضح رہے کہ سعودی منصوبے کے تحت 2030ء تک فوجی تحقیق و ترقی کا بجٹ 0.2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد تک کیا جائے گا۔ دوسری جانب بکتر بند گاڑیوں کے یونٹ کے حوالے سے سعودی عرب دنیا کے بڑے ممالک کے درمیان پانچویں نمبر پر آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق عسکری امور کی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور کی جانب سے ایک تازہ سروے میں کہا گیا ہے کہ بکتر بند رجمنٹ کے حوالے سے عالمی سطح پر سعودی عرب پانچویں نمبر پر پہنچ گیا۔ بکتر بند رجمنٹ کی کیٹیگری میں امریکا پہلے نمبر پر براجمان ہے، چین دوسرے نمبر پر ہے، روس کا تیسرا نمبر ہے، جب کہ جنوبی کوریا چوتھے نمبر ہے۔ گلوبل فائر پاور کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی بری فوج کے پاس ساڑھے 12 ہزار بکتر بند گاڑیاں ہیں۔ امریکی فوج کے پاس 40 ہزار بکتر بند ہیں، چین 35 ہزار بکتر بند رکھتا ہے، روس کا بکتر بند یونٹ 27 ہزار 100 پر مشتمل ہے، جب کہ جنوبی کوریا کا رجمنٹ 14 ہزار 100 بکتر بند گاڑیوں کا حمل ہے۔ یوں سعودی عرب بکتر بند رجمنٹ کے حوالے سے اس وقت برطانیہ، جرمنی، فرانس، ایران، ترکی اور اسرائیل پر برتری رکھتا ہے۔ علاقائی سطح پر بکتر بند گاڑیوں کے حوالے سے ترکی کا نمبر چھٹا ہے، جس کے پاس اس وقت 11 ہزار 630 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔