شام میں روسی بمباری 21 جنگجو مارے گئے

84

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں روسی فضائیہ کے حملوں میں داعش کے 21 جنگجو مارے گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق روسی طیاروں نے جمعہ اور ہفتے کے درمیان حلب، حما اور رقہ صوبوں میں مختلف مقامات پر 130 فضائی حملے کیے۔ جمعہ کے روز داعش نے اسدی فوج اور اس کی اتحادی قوتوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 8 افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی اور اسی کے رد عمل میں روس نے یہ کارروائی کی۔ حالیہ ایام میں بادیہ نامی ریگستان میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب شام میں اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد ایرانی ملیشیائوں نے مشرقی صوبے دیر الزور میں موجود اپنے اسلحہ کو تباہی سے بچانے کے لیے زیر زمین سرنگوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایرانی ملیشیاؤں نے کاتیوشا راکٹوں، بھاری اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار مشرقی دیر الزور میں المیادین شہرکی سرنگوں میں منتقل کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی فوج اور عالمی اتحادی افواج کی بمباری کے خطرے کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کو اسرائیلی بمباری کا خوف ہے۔ شامی مبصر کے مطابق فاطمیون ملیشیا نے حالیہ دنوں میں اسلحہ، میزائل اور گولہ بارود کی بھاری مقدار المیادین میں حاوی کے مقام پر منتقل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں میں اسلحہ کی منتقلی کے ساتھ ساتھ مویشی خانوں میں بھی اسلحہ منتقل کیا گیا ہے۔