امریکا کو سعودی عرب میں تعینات دستوں کی فکر لاحق

79

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے سعودی عرب میں تعینات فوج کے لیے متبادل اڈوں کو تلاش شروع کردی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوج کے سینئر عہدے دار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں کسی بھی غیر متوقع حملے سے بچانے کے لیے سعودی عرب میں متبادل اڈوں کی تلاش جاری ہے، جنہیں ہنگامی طور پر استعمال کیا جاسکے۔ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میک کنزی نے کہا کہ ہم نئے اڈوں کی تلاش نہیں کر رہے۔ ہم موجودہ اڈوں کو بند کیے بغیر اپنی صلاحیت بڑھانا چاہتے ہیں، تاکہ خطرے کی صورت حال میں اہل کار دوسرے اڈوں تک پہنچ سکیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکی صدر بائیڈن سے امیدیں وابستہ کرلی یں، تاہم وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس سلسلے میں سردمہری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت کشیدگی کے باوجود بہت جلد پابندیاں اٹھالے گی۔ تاہم ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ امریکا جوہری پروگرام سے متعلق یورپ کے ساتھ مذاکرات سے قبل ایران پر پابندیاں ختم نہیں کرے گا۔ مذاکرات سے قبل ایران کے حوالے سے مزید اضافی اقدامات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔