اسرائیل نے بغیر اطلاع پانی چھوڑ دیا‘ غزہ زیر آب

127
بیت لحم: 19 سال اسرائیلی قید میں رہتے ہوئے بیماری کے بعد جام شہادت نوش کرنے والے داود طلعت کو آخری آرام گاہ پہنچایا جارہا ہے

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی نے بارش کے باعث ڈیم بھر جانے کے بعد بغیر اطلاع ڈیموں کے منہ کھول دیے، جس کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر فصلیں زیرآب آگئیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی حکومت نے مشرقی غزہ کے قریب سازش کے تحت کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا۔ صہیونی حکام نے بارش کے باعث ڈیم بھرجانے کا بہانہ بنایا اور سازش کے تحت پانی چھوڑ ا،جس کے باعث زیتون کالونی، شجاعیہ اور شمالی بیت حانون میں سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی پر پھیلی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ مقامی کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی طرف سے ڈیم کھولے جانے کے باعث ان کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور املاک کو غیرمعمولی نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج مختلف ہتھکنڈوں اور بہانوں کے ذریعے فلسطینیوں کی فصلوں کو تباہ کرتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار قابض فوج زرعی اراضی پر بلڈوزروں کے ذریعے چڑھائی کرچکے ہیں۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے 19 سال سے قید فلسطینی کی لاش وفات کے 6ماہ بعد اہل خانہ کے حوالے کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق 45 سالہ داود طلعت الخطیب کو اسرائیلی فوج نے اپریل 2002ء میں حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کی عمر 26 سال تھی۔ داود طلعت اسرائیلی قید میں شدید بیمار تھا، تاہم صہیونی حکام نے اسے علاج معالجے کی سہولت فراہم نہیں کی، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال ستمبر میں وہ وفات پاگیا تھا۔