سو برس بیت گئے (دوسراحصہ)

352

روداد جماعت اسلامی حصہ سوم صفحہ 196,197پر مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’خدا کی رضا اس سے بڑھ کر کس بات میں ہوسکتی ہے کہ اس کی زمین پر اس کے احکام چلیں اور ان لوگوں سے بڑھ کر رضائے الٰہی کا طالب کون ہوسکتا ہے جو اس بات کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو خدا کی زمین پر غیراللہ کے اقتدار کا کوئی دھبہ نہ رہنے دیں گے۔۔۔ اگر صحیح اسلامی نظام صرف 30سال ہی قائم رہا جب بھی یہ ایسی چیز ہے جس کے لیے اگر ہم اپنی زندگیاں مٹا دیں تو یہ مہنگا سودا نہیں ہے بلکہ اس نظام خیرو برکت کی ایک شب بھی جس میں خدا کا بندہ صرف خدا کا محکوم رہتا ہے ان ہزارہا سال اور مہینوں سے افضل ہے جن میں خدا کے بندوں کو خدا کے سوا دوسروں کی غلامی کرنی پڑتی ہے۔ آپ تیس سال کہتے ہیں میں تو اس کے تیس منٹ بھی بہت سمجھتا ہوں اور اپنی اور اپنی جیسی لاکھوں زندگیوں کو اس کی قیمت نہیں سمجھتا۔۔۔ یہ تاریخ کے نہایت ناقص مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحیح اسلامی نظام صرف تیس سال ہی قائم رہا۔ سیاسی بصیرت کی کمی کی وجہ سے اشخاص کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی میں لوگ فرق نہیں کرتے حالانکہ دونوں باتوں میں آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد جو تبدیلی واقع ہوئی وہ کانسٹی ٹیوشن کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اشخاص وافراد کی تبدیلی تھی۔ ملک کا قانون وہی رہا، حکومت کا دستور وہی رہا، تعزیرات خدا کی قائم ہوئی تھیں، حدود اللہ کے مقررکیے ہوئے تھے، جائدادیں قرآن کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق تقسیم ہوتی تھیں، صرف اس نظام کے چلانے والے افراد میں یہ تبدیلی ضرور ہوگئی تھی کہ وہ صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظم ؓکی طرح متقی اور خدا ترس نہ تھے۔ تاہم ان میں سے کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خدا کے قانون کی جگہ اپنا قانون چلادے۔ ان میں سے اگر کوئی شخص خدا کے کسی حکم کی ذمے داریوں سے بچنا چاہتا تھا تو اس کو طرح طرح کے مذہبی حیلوں سے کام لینا پڑتا تھا۔ خدا سے اعلانیہ بغاوت ان میں سے بد سے بدتر آدمی بھی کرنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں ہم دیکھتے ہیںکہ جب مسند خلافت پر کوئی خدا ترس اور متقی انسان آگیا تو دفعتاً شب وروز کے اندر دنیا میں وہ بہار آگئی جو فاروق اعظم کے زمانے میں آئی تھی اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ نظام حکومت میں سرے سے کوئی خرابی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی اور یہ واقعہ بھی ہے کہ دراصل نظام کے اندر کوئی بنیادی خرابی جس کی اصلاح دیر طلب ہو پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ صرف اُپری خرابیاں پیدا ہوتی تھیں جو معمولی تبدیلی سے درست ہوجاتی تھیں۔ اس طرح کی اصلاح کے دور اسلامی خلافت پر بار بار آئے اور جب تک اس کی بنیاد میں خرابی نہیں پیدا ہوئی یعنی خدا کی حکومت کی جگہ طاغوت کی حکومت نہیں قائم ہوگئی اس وقت تک دنیا میں خلافت راشدہ کی برکتوں کا دور باربار آتا رہا اور اب بھی اس کے لیے جدوجہد کی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں ہماری مدد کیوں نہ فرمائے گا‘‘۔
دنیا بھر کے مسلمانوں میں خلافت سے محبت اور عقیدت کے جذبات ہر دور اور ہر عہد میں بے پناہ رہے ہیں۔ خلافت تمام مسلمانوں کی نظر میں عالم اسلام کی دینی روایت کا مرکز اور مسلم اتحاد اور افتخار کی علامت تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اگرچہ کبھی براہ راست خلافت کے زیرسایہ زندگی نہیں گزاری تھی لیکن برصغیر کے ہر مسلم حکمران نے اپنے عہد کے خلیفہ وقت کو خلیفہ تسلیم کیا، اس کی اطاعت کی۔ سکّوں پر خلیفہ کی مہر ثبت کی۔ جب برطانیہ نے خلافت کے خلاف سازشیں شروع کی تو برصغیر کے مسلمانوں میں بے چینی شروع ہوگئی اور انہوں نے اپنے غم وغصے کے اظہار میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ ارل آف لٹن (The Earl of Lytton) جو 1876ء سے 1880ء تک ہندوستان میں برطانیہ کا وائسرائے رہانے 1876ء میں حکومت کو مطلع کیا ’’سلطان (خلیفہ) سے اظہار یکجہتی کے مقصد کے لیے ممبئی میں ایک بہت بڑا اور انتہائی پراثر اجلاس منعقد ہوا۔ پشاور اور ہندوستان بھر کے مسلم علاقوں میں اسی طرح کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں‘‘ 16جولائی 1897ء کو شمال مغربی صوبوں اور اودھ پر مقرر لیفٹیننٹ گورنر سر انتھونی مکڈونلڈ نے کہا ’’وہ (برصغیر کے مسلمان) حقیقی معنوں میں ترکی کے سلطان کو اسلام کا سر پرست سمجھتے ہیں‘‘۔ 22اگست 1897ء کو اس نے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی کے ساتھ بڑی ہمدردی پائی جاتی ہے اور یہ کہ غالب جذبات ایک قسم کی اسلامی نشاۃ ثانیہ جیسے ہیں۔ آگرہ کے کمشنر نے مجھے بتایا ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں نے اب ترکی ٹوپی پہننا شروع کردی ہے اور شاید یہ ایک اشارہ ہے جو بتارہا ہے کہ ہوا کس رُخ چلنا شروع ہوگئی ہے‘‘۔
خلافت عثمانیہ پر مختلف اطراف سے ہونے والے حملوں پر برصغیر کے مسلمان بہت آزردہ اور پریشان رہے۔ ستمبر 1911ء میں ٹریپولی اور بن غازی پر قبضہ کرنے کے لیے جب اٹلی نے برطانیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے خلافت عثمانیہ پر حملہ کیا تو ’’ترکی کے سلطان ہمارے واجب التعظیم خلیفہ‘‘ کے عنوان سے ان کی حمایت اور غیر منصفانہ جنگ کے خلاف ہندوستان کے طول وعرض میں اجلاس منعقد ہوئے۔ اکتوبر 1912ء میں جب بلقان کی ریاستوں کی جانب سے ایک بار پھر برطانیہ کے ساتھ اتحاد کرکے خلافت عثمانیہ پر حملے کیے گئے تو ہندوستان میں جگہ جگہ مظاہرے ہوئے۔ علامہ اقبال نے اپنی بے مثل نظم جواب شکوہ نومبر 1912ء میں خلافت عثمانیہ کے لیے چندہ جمع کرنے کے ایک جلسے میں پڑھی تھی:
ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کا
غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
تو سمجھتا ہے، یہ ساماں ہے دل آزاری کا
امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا
کیوں ہراساں ہے صہیل فرسِ اعدا سے
نور حق بجھ نہ سکے گا نفسِ اعدا سے
پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے عربوں کو آزادی کا جھانسا دے کر ترکوں کے خلاف اُبھارا۔ گورنر حجاز، شریف حسین نے غداری کی اور عثمانیہ سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی۔ علامہ اقبال نے شریف مکہ کے اس عمل کو پسند نہ کیا۔ خضرراہ میں خفگی کا اظہارکرتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں:۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
بر صغیر کے مسلمانوں نے ہزار برس اسلام کے زیر سایہ زندگی گزاری تھی اس لیے وہ اسلام کے نفاذ کے معاملے میں خلافت کی موجودگی کی اہمیت اور فرضیت سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے حوالے سے 7جون 1857ء کو برطانوی وزیراعظم گلیڈ اسٹون (Gladstone) نے کہا تھا ’’عظیم فتو حات اعلیٰ طاقت کی حامل قوتیں کرتی ہیں جو کمتر اقوام پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ نہیں ہے ہم ان لوگوں کے ہاتھ سے اقتدار لینے کی کوشش کررہے تھے جو اسے زبردست طریقے سے استعمال کرنا جانتے تھے‘‘۔ عثمانیوں نے خلافت کے پرچم تلے مختلف رنگ، نسل، زبان اور مذاہب کے پیروکاروں پر تین براعظموں میں حکومت کی تھی اس کا انہدام برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت اور انتہائی کرب اور صدمے کا باعث تھا ۔
(جاری ہے)