عوام کی فلاح کا ڈنڈا… ان ہی کی کمر

179

وزیراعظم پاکستان کو عوام کی فلاح و بہبود کا خیال ہو اور سندھ کی حکومت پیچھے رہ جائے یہ تو ممکن نہیں۔ جب وزیراعظم نے عوام کی فلاح وبہبود کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چھ مرتبہ اضافے کے بعد ساتویں مرتبہ اضافے سے انکار کیا تو حکومت سندھ نے فوری طور پر عوام کی فلاح کے لیے پی ایس ایل کے نام پر سڑکیں بند کردیں اور پھر اس پر بھی مزا نہیں آیا کیوں کہ اس پر عدالت میں کیس کردیا گیا اور عدالت نے حکم دیا کہ سڑکیں کھول دی جائیں تو حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ کے شہر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنے پر پابندی لگادی۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ پابندی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسنے والے شہریوں اور مریضوں کو پہنچنے والی تکلیف کا خاتمہ ہے۔ ان مقامات میں قومی شاہراہ، ریلوے اسٹیشن اور ریلوے ٹریک سمیت صوبے کے 20 سے زائد مقامات شامل ہیں۔ اس حکم نادر شاہی پر کس کا سر پیٹا جائے۔ حکمرانوں کا سر پیٹنے کی بات کریں تو دہشت گردی کی دفعات لاگو ہوجائیں گی، اپنا پیٹیں تو یہ کام حکومت کر ہی رہی ہے، وہ عوام کا سر، کمر، ٹانگیں سب ہی پیٹ رہی ہے۔ اتنا بڑا اور ظالمانہ مذاق کیا گیا ہے کہ اس کی مثال صرف پاکستانی حکمران ہی دے سکتے ہیں۔ حیرت ہے محکمہ داخلہ سندھ کو عوام کے خادم وزیراعلیٰ، پارٹی کے رہنمائوں اور پراسرار قسم کے پارٹی رہنمائوں کی آمدورفت کے وقت سڑکیں بند کرنے اور ان کے وی وی آئی پی قافلوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے عوام کو گھنٹوں کھڑا رکھنے اور مریضوں کو تکلیف دینا یاد نہیں آیا۔ پی ایس ایل اور انٹرنیشنل کرکٹ کی وجہ سے پورے شہر کا ٹریفک پورے پورے دن بند کردیا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کو شاید پتا نہیں کہ آغا خان اسپتال اور لیاقت نیشنل اسپتال میں مریض بھی جاتے ہیں۔ صرف وزرا، بیورو کریٹس اور امیر طبقے کے لوگ آرام کرنے نہیں۔ عوام کی اس پریشانی کے پیش نظر پاسبان نے مقدمہ کردیا اور ہائی کورٹ نے سڑکیں کھولنے کا حکم دے دیا۔ ڈالمیا روڈ اور آغا خان جانے والی سڑکیں کھولنے کی ہدایت کردی لیکن اس کے باوجود رات دو بجے تک سڑک بند تھی۔ پولیس اہلکار سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ ابھی کھولنے کا آرڈر نہیں۔ اب عدالت بتائے کہ آرڈر کس کا چلے گا۔ حکومت کو تو عوام کی اتنی فکر ہے کہ اہم شاہراہوں پر دھرنوں پر پابندی لگادی جو کبھی کبھار ہوتے ہیں اور یہ دھرنے اور احتجاج کھیل کود کے لیے نہیں حکومتوں کی نالائقی اور بدانتظامی کی وجہ سے پریشان عوام کی حمایت میں سیاسی اور سماجی تنظیمیں کرتی ہیں، اگر حکمران احمقانہ کام نہ کریں، عوام کا حق نہ ماریں تو دھرنوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے
اور پابندی کا حکم بھی نہ لگایا جائے۔ ہماری رائے میں حکمرانوں کو اگر عوام اور مریضوں کا اتنا خیال ہے تو اپنی اصلاح فرمائیں۔ یہ منطق عجیب ہے کہ پابندیاں لگا کر عوام کی فلاح وبہبود اور پٹرولیم کی قیمتیں چھ مرتبہ بڑھا کر ساتویں مرتبہ بڑھانے سے عارضی انکار کرکے عوام کی فلاح وبہبود کے اقدامات کیے جائیں۔ پیپلز پارٹی کراچی کی مرکزی شاہراہ شارع فیصل پر کارساز کے دھماکے کی یاد میں پوری سڑک بند کرتی ہے اور بے نظیر بھٹو اسی سڑک سے شاہراہ قائدین آنے کے لیے دونوں سڑکیں بند کرواکر آرہی تھیں۔ جب بھٹو خاندان کا کوئی دن منایا جاتا ہے تو مزار قائد کے قریب پیپلز چورنگی کا راستہ جام ہوتا ہے۔ ویسے بھی اس چورنگی کو ایک جانب سے بند کردیا گیا ہے تاکہ اسپتال یا آفس جانے والے لمبا چکر کاٹ کر دیر سے پہنچیں اور تکلیف سے بچیں۔ یہ بدترین ٹریفک جام حکومتی نالائقیوں کے خلاف احتجاج اور دھرنے ہی سے کیوں ہوتا ہے۔ وی آئی پی موومنٹ سے کیوں نہیں ہوتا۔ پی ایس ایل اور کرکٹ میچز سے کیوں نہیں ہوتا۔ دراصل یہ حکم بدنیتی پر مبنی ہے۔ عوام کو آسانی فراہم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ حکومت آسانیاں فراہم کرے، کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ شہر کی درجنوں اہم سڑکوں کو کس سیاسی پارٹی نے بند کررکھا ہے۔ اب وہ ایم کیو ایم نہیں رہی جس نے 90 کے اردگرد پورے علاقے کو یرغمال بنا
رکھا تھا۔ اہل محلہ بھی کہیں آ جا نہیں سکتے تھے۔ پورے شہر میں بلکہ صوبے بھر میں ساری رکاوٹیں سرکار نے یا سیکورٹی والوں نے لگا رکھی ہیں۔ پیپلز چورنگی پر یہ حال ہے، ہاکی اسٹیڈیم کا یہی حال ہے جناح اسپتال کے اردگرد یہی صورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں لوگوں کا اندر جانا بلکہ طلبہ کا اندر جانا محال ہے۔ شیخ زاید انسٹی ٹیوٹ کا مرکزی دروازہ باہر سے غائب ہوتا جارہا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ بھی کوئی سیکورٹی ادارہ ہے جہاں عوام کی سہولت کے لیے کوئی تعلیمی سلسلہ چل رہا ہے۔
حکومت سندھ کے اختیارات تو بعض مقامات پر غیر موثر ہوجاتے ہیں جیسے جوہر چوک سے حبیب یونیورسٹی کے عقب سے ائرپورٹ جانے والا راستہ جب چاہے سیکورٹی کے نام پر عوام کو فلاح وبہبود اور مشکلات سے بچانے کے لیے بند کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی مہربانی سے کھلا بھی رہتا ہے۔ عوام کی تجاوزات توڑ پھوڑ کر تہس نہس کردی گئیں اور سرکار اور سیکورٹی والوں کے شادی ہال چل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ عسکری کا مرکزی دروازہ اور راشد منہاس روڈ ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ سڑک کہاں ہے اور شادی ہال کہاں ہے۔ لیکن یہ سارے کام عوامی فلاح کے لیے کیے جارہے ہیں، اس لیے بولنا منع ہے۔ ہاں دھرنا کرنا غلط ہے۔ یہ لوگ جو دھرنا کرتے ہیں انہیں شاید پکنک منانے کے لیے کوئی جگہ میسر نہیں اس لیے شارع فیصل اور اہم شاہراہوں پر دھرنا دے کر پکنک مناتے ہیں۔
ظاہر ہے ایسا نہیں ہے بلکہ دھرنے دینے والے تو پورے شہر کا فرض کفایہ ادا کرتے ہیں۔ اصل خرابی تو حکمرانوں، اداروں اور اشرافیہ کی ہے۔
عوام کی سہولت کا ذکر آیا تو برنس روڈ کی بات کیوں نہ کی جائے جہاں فوڈ اسٹریٹ کے ذریعے عوام کو کھابے کھلائے جارہے ہیں۔ شکم سیر لوگ روزانہ شام کو وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ برنس روڈ کے رہنے والے اگر وقت سے پہلے اپنے گھر نہ آسکے تو ان کی گاڑیوں کا داخلہ بند ہوجاتا ہے۔ گاڑی کے کاغذات اور شناختی کارڈ سے ثابت نہ ہو تو داخلہ ممنوع اور داخلہ بھی کیسا راستہ ہی نہیں چھوڑا گیا ہے۔ دکانداروں نے عوام کی سہولت کے لیے سڑک، فٹ پاتھ، گھروں کی دیواروں، مسجد کی دیوار، بیت الخلا کے دروازے کے ساتھ میزیں سجادی ہیں اور میزیں بھی ایسی کہ زمانے بھر کا کچرا جمع کرکے انہیں ٹیبل کرسی قرار دے دیا گیا ہے۔ کہیں اچھی کہیں بری کہیں ٹوٹی اور بھوکے عوام اس پر بھی خوش ہیں کہ انہیں کہیں کھانا کھانے کی جگہ مل گئی۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے بعد میں پتا چلے گا کہ کس نے اجازت دی، کس نے بھتا لیا اور کس نے کھانچا مارا۔ پارکنگ کے ٹھیکے داروں کے مزے ہیں۔ اور آگے چلیں تو سندھ مدرستہ الاسلام لا کالج (ایس ایم لا کالج) اور پرانا این ای ڈی کے اردگرد فوڈ اسٹریٹ بن گئی ہے، سڑک بند ہے، نیچے پارکنگ ہے اور اوپر کھابے۔ یہ سب کیا ہے، دنیا میں فوڈ اسٹریٹ کا یہ تصور نہیں جو پاکستان میں ہے۔ پرائیویٹ پراپرٹی اور کسی کے گھر کا راستہ روکنا تصور میں نہیں ہے اور پھر برنس روڈ کو رات دو بجے سے صبح تک غلاظت میں لتھڑا ہوا دیکھنا ہو تو جا کر نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ کھانے والے اور دکاندار سب اپنے حصے کا بھرپور کام کررہے ہیں اور ہاں!! وہ ایس او پیز کہاں ہیں جن کے نام پر اسکول، کالج، یونیورسٹی، تعلیم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ مدارس پر پابندی لگنے کی دھمکی ہے، برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ پر تو تصور ہی نہیں ایس او پیز کا اتنا بڑا ڈراما… اور سارے جغادری چپ… آپ بھی تماشا دیکھیں۔