مادری زبان کا عالمی دن اور اردو

216

زبان اظہار کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اسے غور و فکر کا صحت مند وسیلۂ اظہار قرار دیا جاتا ہے۔اسی طرح اظہار اور تفہیم کی جو سہولت یا آسانی ہمیں اپنی مادری یا قومی زبان میں ہوسکتی ہے وہ کسی دوسری زبان میں کسی طور ممکن نہیں، کیونکہ انسان کی تخلیقی صلاحیتیں جس طرح اپنی زبان سے نکھرتی اور ابھرتی ہیں، کسی اور زبان میں اس کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اپنی زبان انسان کی سرشت اور خمیر میں ہوتی ہے اور انسان کا اس سے ایک تعلق ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق 1950ء سے اب تک 230 مادری زبانیں ناپید ہوچکی ہیں۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق ہمارے یہاں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں جو علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، کشمیری اور سرائیکی زبانیں زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ ہندکو، براہوی، گجراتی اور بعض دوسری علاقائی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ مادری زبانوں میں آپ کی روایات، تہذیب و تمدن، ذہنی و روحانی تجربے پیوست ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ ہر زبان میں پوری تہذیب اور تاریخ کو بیان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔قومی زبان جن ضروریات کو پورا کرتی ہے وہ علاقائی زبانوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ہماری علاقائی زبانیں پاکستان کے اپنے اپنے علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور قومی زبان پاکستان سے بحیثیت کل متعلق ہے ۔تمام علاقائی زبانیں ایک خاندان کے افراد کی طرح ہیں.قومی زبان کو وسعت کی بنا پر اس خاندان کی سربراہی کا فرض ادا کرنا ہے. ظاہر ہے سربراہ خاندان کی ترقی دراصل تمام افراد خاندان کی ترقی ہے،پورے خاندان کی فلاح ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس اردو زبان کی نعمت موجود ہے، جس کا دامن پھیلا ہوا ہے، اور اس کی وسعت کی وجہ ہی سے اس کے اندر ہمارے یہاں بولی جانے والی زبانوں سے الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال کو سمونے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہمارا سیکولر، لبرل اور دین بیزار طبقہ مادری زبان کی اہمیت کو انگریزی کے مقابلے میں پیش بھی کرتا ہے تو اس کے پیچھے سرشت میں موجود اردو دشمنی ہوتی ہے۔ علاقائی زبانوں اور قومی زبان کے درمیان تصادم یا خوف کی فضا صرف خودغرض سیکولر سیاست سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ قائداعظم کی فراست کو ان کے عہد کے ہر بڑے چھوٹے انسان نے تسلیم کیا، آپ کی فراست کا ایک مظہر اگر قیام پاکستان کی صورت میں تھا تو دوسری طرف آپ کو قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران اندازہ ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کو متحد کرنے میں اردو ہی ایک ذریعہ اور مؤثر ہتھیار ہوسکتی ہے۔ اسی لیے آپ نے پاکستان کے ہر اہم معاملے پر بڑا واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا، جیسے پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست قرار دیا، اسی طرح پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں کھل کر مسلم لیگ کی کونسل اور پھر پہلی قانون ساز اسمبلی کے فیصلوں کے مطابق اردو ہی کو قومی زبان بنانے پر زور دیا۔ اور یہ صرف کسی لیڈرکا عمومی بیان یا فرمان نہیں تھا، یہ آپ کی دور اندیشی تھی۔ اسی لیے جب آپ نے ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب میں بظاہر سیاسی ماحول اور پس منظر میں بہت پاپولر بات نہیں کی لیکن آپ دور تک دیکھنے والے تھے اور اُس وقت بعد کا جو منظرنامہ آپ کو نظر آرہا تھا اسی تناظر میں آپ نے کھل کر بات کی اور فرمایا ’’اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم مضبوط ہوکر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو پاکستان کی سرکاری زبان ایک ہی ہوسکتی ہے، اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو ہے، صرف اردو‘‘۔ اس کی وجہ بالکل صاف تھی، اور آج کے حالات نے اسے درست ثابت کیا، کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ علاقائی زبانوں کے افکار و الفاظ قومی زبان کے دامن کو وسعت دیتے ہیں، اور قومی زبان کے الفاظ و خیالات علاقائی زبانوں میں جگہ پاکر نہ صرف ان کو وسیع کرتے ہیں بلکہ علاقے کے افراد کو قومی زبان سے قریب لاتے ہیں۔ اسی لیے علاقائی زبانوں کی ترقی قومی زبان، اور قومی زبان کی ترقی علاقائی زبانوں کی ترقی ہوتی ہے، یہ ایک دوسرے سے مربوط ہوں تو ایک دوسرے کی طاقت ہوتی ہیں، اور پھر اس پس منظر میں اردو ان سارے اصولوں پر پورا اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو پاکستان کی قومی، علمی، ثقافتی، تہذیبی، مذہبی اور جامع زبان ہے، اس کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ یونیسکو کے اعداد وشمار کے مطابق عام طور پر بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد یہ تیسری بڑی زبان ہے، اور رابطے کی حیثیت سے دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔ اردو اور مادری زبان کے پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس کا مقابلہ انگریزی سے نہیں کیا جاسکتا۔ انگریزی بدیسی یا پردیسی زبان ہے اور ہمارے یہاں آج 73سال بعد بھی اجنبی زبان ہے، جب کہ اردو یہاں کے ہر مقامی زبان بولنے والوں میں اجنبی زبان نہیں ہے۔ یہ ہمارے یہاں کے اکثر لوگوں کی مادری زبان نہیں، لیکن پورے برصغیر بالخصوص پاکستان کے ’’ماحول‘‘ کی زبان ضرور ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مذہب، تاریخ، تہذیب اور ماحول کی زبان ہونے کی وجہ سے اردو بھی برصغیر کی تقریباً مادری زبان بن گئی ہے۔ حکومت اور ریاست کو چاہیے کہ وہ قائداعظم کی رہنمائی اور ویژن کو عملی جامہ پہنائے، عدالت عظمیٰ کے احکامات پر عمل کرے۔ اپنے مذہب، اپنی تہذیب کے تقاضوں کو پورا کرے، اور قوم کے اندر تخلیقی زندگی بیدار اور پیدا کرنے کے لیے اردو کو رائج کرے تاکہ ہم سوچنے، سمجھنے اور پڑھنے لکھنے والی قوم بن سکیں۔ کیونکہ انگریزی تو دوسو سال کے تجربے کے باوجود دو، تین فی صد سے زیادہ لوگوں کو نہیں آتی، اور نہ اس کے آنے کا کوئی امکان ہے، کیونکہ نہ یہ ہمارے مذہب کی زبان ہے، نہ تہذیب کی زبان ہے، نہ تاریخ اور نہ تجربے کی زبان ہے، اور نہ ہی یہ ہمارے ماحول کی زبان ہے۔ اور ہمارا یہی حال رہا تو ہماری نیّا ڈوبی ہی رہے گی۔ مادری زبانوں کی اہمیت ہے، اس کی ضرورت ہمیں بنیادی تعلیم کے لیے ہے۔ پوری دنیا کے ماہرین بچوں کو بنیادی تعلیم مادری اور علاقائی زبان کے ذریعے دینے کی وکالت کرتے ہیں، اس کو اس سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ زبانیں زندہ رہتی ہیں تخلیقی کام سے۔ اگر آپ اپنی زبان کے اندر تخلیقی کام کریںگے تو آپ کی زبان زندہ رہے گی، اور یہ اصول و قاعدہ اردو پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر اردو میں تخلیقی کام نہیںکریں گے تو اردو بھی مرجائے گی۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ان مادری زبانوں میں تخلیقی کام کو فروغ دیا جائے، ان میں شاعری ہو، افسانے اور ناول لکھے جائیں، تحقیقی مضامین لکھے جائیں۔