ضمنی الیکشن کے نتائج میں تبدیلی مہنگی پڑے گی، مریم نواز

122

لاہور(نمائندہ جسارت)مسلم لیگ(ن)کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے این اے75ڈسکہ میں ووٹنگ کی رفتار کم رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انتخابات دوبارہ کرانے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ اس سے کم پر(ن)لیگ بات نہیں کرے گی،ضمنی الیکشن کے نتائج میں تبدیلی مہنگی پڑے گی ۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ڈسکہ شہر میں پولنگ کا عمل انتہائی سست رکھا گیا، پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہوں گے، اس سے کم ہم نہیں مانیں گے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کارکنوں نے مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کی بلکہ ووٹ کی عزت کے لیے پوری جنگ لڑی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے ناصرف ووٹ دیا بلکہ آخری وقت تک اپنے ووٹ پر پہرہ بھی دیا، وہ سمجھ رہے تھے کہ رات کے وقت ہوگا تو جو چاہے کرسکیں گے لیکن ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ کے عوام جاگتے رہے ،کارکن ووٹ چوروں کے چہرے پہچان چکے تھے ۔ مریم نواز نے کہا کہ احسن اقبال، رانا ثنااللہ سمیت رکن قومی اسمبلی اور جماعت کے عہدیداران نے اپنی اپنی خدمات دیں ان کی شکر گزار ہوں، رانا ثنا اللہ کو گرفتار کرنے آگئے تھے لیکن پھر انہیں خیال آیا کہ اس طرح کا مقدمہ تو بنتا ہی نہیں ہے، احسن اقبال بھی صبح تک جاگتے رہے اور ووٹ چوروں کو بے نقاب کیا۔مریم نواز نے کہا کہ ہم مگر مچھ کے منہ سے3 نشستیں چھین کر لائے ہیں، مریم نواز نے 2 نوجوانوں کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خوف اور دھاندلی کی وجہ سے2 جانیں ضائع ہوگئیں،انسانی جان کے ضائع ہونے پر بہت افسوس ہے اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتی ہوں۔مریم نواز نے حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ ڈسکہ اور نوشہرہ سے مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے انہیں ان کے گھر میں شکست دی، خیبرپختونخوا میں بھی نواز شریف کا بیانیہ سرایت کرگیا ہے اور لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں اور لوگ نااہل حکمراں جماعت سے تنگ آچکے ہیں اور اب نجات چاہتے ہیں، سیالکوٹ میں ان کے لوگوں نے فائرنگ کی تاکہ مسلم لیگ (ن)کا ووٹر خوف کی وجہ سے گھر سے نہ نکلے اور اگر کوئی نکلا ہے تو واپس چلا جائے، تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اور امیدوار نے فائرنگ کی اور اس کا الزام اپوزیشن پر لگار ہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈسکہ اور وزیر آباد میں پولنگ کو سلو کیا گیا اور چار چار پانچ پانچ گھنٹے پولنگ بند کی گئی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومتی عہدیدار پولنگ اسٹیشن کے اندر کیا کررہے تھے؟۔مریم نواز نے کہا کہ عطا تارڑ اور ہمارے کارکنوں نے پولنگ عملے کو ووٹوں سے بھرے تھیلے کے ساتھ پکڑا، ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ووٹ سے بھرا بیگ پولیس کی گاڑی میں ڈال کر وہ فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے، کوئی نہیں جانتا الیکشن کمیشن کے افسران14گھنٹے کہاں رہے، الیکشن کمیشن کا بیان دیکھ لیں یہ حکومت کے خلاف بڑی چارج شیٹ ہے اور الیکشن کمیشن بھی چیخ پڑا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے،الیکشن کمیشن کو بھی نہیں معلوم کہ افسران کو کس نے اغوا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے سیلکٹ ہوکر آئے اور اب ریجیکٹ ہوئے ہیں کیونکہ انہیں چاروں صوبوں نے مسترد کردیا ہے۔مریم نواز نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ قوم کی نظریں الیکشن کمیشن پر ہے ، ان کے پاس اپنی ساکھ بحال کرنے کا موقع ہے۔