کسی جج کو مقدمہ سننے سے نہیں روکاجا سکتا،چیف جسٹس نے الزامات کے ثبوت نہیں دیے ‘جسٹس فائز

121

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چار ایک کے تناسب سے لکھا اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ 28 صفحات پر مشتمل اس اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق وزیراعظم کا جواب آئین سے متنازع ہے،آئین کے مطابق معاملے کو دیکھنے کے بجائے غیر متوقع طور پر معاملہ ہی نمٹا دیا گیا، مقدمے کا اختتام حیران کن تھا،جب تک بینچ میں موجود تمام ججز کے فیصلے پر دستخط نہ ہوں تب تک وہ فیصلہ قانونی نہیں ہوتا،چیف جسٹس نے غیر قانونی فیصلہ دیا،معاملے کی تحقیق کے بجائے عدالت عظمیٰ کے جج کیخلاف فیصلہ دینا ایک غیر قانونی عمل ہے،چیف جسٹس کو جانبداری کے الزام سے قبل شواہد دینے چاہیے تھے ۔جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ بینچ جسٹس مقبول باقر اور مجھ پر مشتمل تھا، 2 رکنی بینچ نے 10 فروری کو سماعت ملتوی کردی، 10 فروری کو حکم لکھوایا کہ وزیراعظم کا جواب اطمینان بخش نہ ہوا تومعاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا جائیگا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا کہ چیف جسٹس نے معاملہ 5رکنی بینچ کے سامنے مقرر کردیا، میں نے جسٹس مقبول باقرکوبینچ سے الگ اور 5رکنی بینچ پراعتراض کیا،چیف جسٹس نے خط کا جواب نہیں دیا ، نہ ہی اٹھائے گئے سوالات کاجواب دیا۔ انہوں نے لکھا کہ بینچ کی تشکیل سے شکوک پیدا ہوئے کہ آخراس کیس میں غیرمعمولی دلچسپی کیوں ہے، عدالتی نظام کی غیرجانبداری اور عوامی اعتماد پر اٹھنے والے سوالات کاجواب نہیں دیا گیا۔ جسٹس فائزعیسٰی کے نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے زبانی بھی نہیں بتایا کہ جسٹس مقبول باقرکوکیوں بینچ سے ہٹایا، کیس کی فائلوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کو زبانی احکامات پر فائل پیش کی گئی، چیف جسٹس نے 10 فروری کو 5 رکنی بینچ کی تشکیل کا حکم دیا، کیس سننے والے 2رکنی بینچ سے لے کر 5 رکنی بینچ کے سامنے لگا دیاگیا، چیف جسٹس نے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے 5 رکنی بینچ نامناسب اندازمیں تشکیل دیا، بینچ کی تشکیل سے غیر ضروری سوالات پیدا ہوئے۔