فرانسیسی قیادت مسلمانوں کو گھیرے میں لینے کے طرز عمل سے بازرہے‘ صدر عارف علوی

134
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی مذہبی آزادی اور اقلیتوںکے حقوق سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(اے پی پی)صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ فرانس کی حکومت اورقیادت انتشاراورتعصب کو جنم دینے والے اقدامات کے بجائے عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کر ے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے جونقصان ہوگا وہ برسوں پرمحیط ہوگا، فرانس کی حکومت اورقیادت مسلمانوں کوگھیرے میں لینے والے طرزعمل اورقوانین سے گریز کرے ، آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کے لیے جامع بین الاقوامی اقدامات اورلائحہ عمل کی ضرورت ہے، ملک کی ترقی اورخوشحالی کے لیے تمام اقلیتوں سمیت ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ہفتے کوایوان صدرمیں وزارت مذہبی واقلیتی اموروبین المذاہب ہم آہنگی اورامپلی مینٹیشن مینارٹیز فورم کے زیراہتمام عالمی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے بین المذاہب ہم آہنگی اورپرامن بقائے باہمی کے بارے میں اسلامی تاریخ سے متعدد حوالے دیے اورکہاکہ پیغمبراسلام ﷺ اورخلفائے راشدین کے ادواربین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے مثالی ادوارکی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احاطہ کیاگیاہے۔صدرمملکت نے برصغیرپاک وہند میں رہنے والے اقلیتی مسلمانوں کی تاریخی جدوجہدپربھی روشنی ڈالی اورکہاکہ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے اقلیتوں کے بارے میں فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ پاکستان کاآئین ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کاضامن ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 20، 21، 25 اور آرٹیکل 27اقلیتوں کے حقوق کومکمل تحفظ فراہم کررہاہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اوربین المذاہب وبین الثقافتی ہم آہنگی کے لیے ہم اپنی جدوجہد اورکوششیں جاری رکھیں گے۔مینارٹیز کمیشن اورکئی کمیٹیوںکی سطح پرکام ہورہاہے۔ صدرمملکت نے مزید کہا کہ بھارت میں اکثریت کے حق میں اوراقلیتوں کے خلاف قوانین تبدیل کیے جارہے ہیں جس سے صورتحال خراب ہورہی ہے، یہ ایک خطرناک رحجان ہے اوراس سے اقلیتوں کے قتل عام کی طرف رحجان قائم ہوسکتاہے۔بھارت کی پارلیمان میں مسلمانوں کی صرف 2فیصد نمائندگی ہے۔ صدرمملکت نے کہاکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اقدامات اورقوانین کومنفی اندازمیں تبدیل کرنے سے جو صورتحال پیداہوگی اس سے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔صدرمملکت نے آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کے لیے جامع بین الاقوامی اقدامات اورلائحہ عمل کی ضرورت پرزوردیا اورکہاکہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے واضح پیغام دیا ہے کہ ناموس رسالت کے معاملے پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔فرانس کی حکومت اورقیادت پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کوگھیرے میں لینے والے طرزعمل اورقوانین سے گریز کرے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے نفرت اورتصادم کی شکل میں خطرناک نتایج سامنے آسکتے ہیں۔فرانس کو چاہیے کہ وہ انتشاراورتعصب کو جنم لینے والے اقدامات کے بجائے عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کرے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے جونقصان ہوگا وہ برسوں پرمحیط ہوگا۔صدرنے کہاکہ فرانس میں ہونے والی قانون سازی اقوام متحدہ کے چارٹر اوریورپی معاشرے میں سماجی ہم آہنگی کی روح کے منافی ہے۔انہوں نے کہاکہ پورے مذہب کو لیبل کرنا اورپوری کمیونٹی کے خلاف معاندانہ اقدامات سے آنے والے برسوں میں خطرناک تنائج سامنے آسکتے ہیں۔ صدرمملکت نے کانفرنس کے منتظمین اورشرکا کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ حکومت بین الاقومی کانفرنس کے دوران مرتب کی جانے والی سفارشات اورتجاویز کاسنجیدگی سے جائزہ لے۔