سینیٹ الیکشن: اٹارنی جنرل کا تجویز کردہ یونیک بار کوڈ دھاندلی روکنے کیلئے مفید قرار

163

کراچی: عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے اٹارنی جنرل کا تجویز کردہ یونیک بار کوڈ (Unique Bar Code) سینیٹ الیکشن میں دھاندلی روکنے کیلئے مفید قرار دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کی آمد آمد ہے۔ اور معاملہ صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے۔ وہاں جو سوال بھیجا گیا ہے وہ تھوڑا سا مبہم اور کسی حد تک غیر متعلقہ بھی ہے۔ سوال یہ بھیجا گیا ہے کہ سیکریسی آف بیلٹ کے پرویژن کو صحیح انداز سے دھارنے کیلئے کیا آئینی ترمیم کی ضرورت ہے یا معمولی قانون کے ذریعے سے مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ پردوں کے چھپا کرکے سوال کیا گیا ہے۔ اصل میں معاملہ یہ ہے کہ آئین اور خصوصا آرٹیکل 226 کے ماتحت جتنے بھی الیکشنز متوقع ہیں وہ سارے کے سارے سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ اس پس منظر میں کہ جب پچھلے سینیٹ کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کا انتخاب ہوا تھا تو اس میں لین دین کے معاملات بھرپور رہے اور پی ٹی آئی نے اس کا فائدہ بھی اٹھایا۔

اب معاملہ the shoe is on the other foot والا ہے۔ تو اس مرتبہ پی ٹی آئی کو بخوبی یہ اندازہ ہے کہ کچھ صوبائی اسمبلیوں میں ان کی اکثریت ہونے کے باوجود دوسری پارٹیاں ووٹوں کی خرید و فروخت کریں گی۔ اور پی ٹی آئی کے اتنے لوگ سینیٹ میں منتخب ہو کر نہیں جائیں گے، جو صوبائی اسمبلیوں میں ان کی اکثریت سے مطابقت رکھتے ہوں، لہٰذا سیکریسی آف بیلٹ اس مرتبہ خود پی ٹی آئی کیلئے اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ صدارتی ریفرنس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں سپریم کورٹ ان کا پابند نہیں ہے۔ اور وہ اپنے طور پر صدارتی ریفرنس کے سوال کو ’’ری فریم‘‘ کرسکتا ہے۔ یہ کچھ اس طریقے سے ہوگا کہ آئین میں جو خفیہ بیلٹ کا تصور ہے اس کے کیا معنی ہیں اور سیکرٹ بیلٹ پر عمل کرتے ہوئے کس نوعیت سے دھاندلیوں کو روکا جاسکتا ہے۔ ایک بات یہاں مکمل طور پر واضح ہو جانی چاہئے کہ آئین ملک کا ’’سپریم لا‘‘ ضرور ہے، لیکن خود آئین میں بھی کچھ دفعات اور موضوعات ایسے ہیں جو دوسروں پر سبقت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ بنیادی حقوق کا معاملہ یا جمہوریت کا آئین میں مقام یاپھر جو فیڈل ازم کا تصور آئین دے رہا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اور سپریم کورٹ بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہا ہے۔ اور آخری بار اس موضوع پر سید ظفر علی شاہ کا فیصلہ ہے، جہاں پر سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیلئے وہ حدود متعین کردی تھیں کہ اگر آئین میں کوئی ترمیم کرنی ہیں تو ان حدود سے تجاوز نہیں کرسکتے۔ اور وہ حدود تقریباً وہی تھیں جن کا میں نے اشارہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 میں تمام آئینی انتخابات کو جو خفیہ بیلٹ سے کرانے کا اصول وضع کیا گیا ہے، کیا وہ اصول افضل ہے یا آرٹیکل 218 میں الیکشن کمیشن کی جو ذمہ داری مقرر کی گئی ہے کہ آپ نے دیانتداری اور انصاف کے ساتھ الیکشن کرانے ہیں۔ قانون کے مطابق الیکشن کرانے ہیں اور ہر لحاظ سے دھاندلی کو روکنا ہے۔ اب یہاں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خفیہ بیلٹ کے پیچھے محرکات کیا ہیں۔ اس شق کے عقب میں بنیادی سوچ یہ ہے کہ ووٹر کے اوپر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔ اسے کوئی خوف یا لالچ نہ ہو۔ اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اور اصولوں کو سامنے رکھ کر ووٹ ڈالے۔ لیکن اگر تو خفیہ بیلٹ کا استعمال بالکل ان اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہو تو پھر کیا ہونا چاہئے۔ اس کیلئے بھی ہمیں آئین کی طرف جانا ہوگا۔ ہم جب آرٹیکل 51 کو دیکھتے ہیں جس کا تعلق قومی اسمبلی کے ممبران کی composition سے ہے تو وہاں ہم کو نظر آتا ہے کہ خواتین کی یا اقلیتوں کی نشستیں ہوں وہاں کوئی سیکرٹ بیلٹ انتخاب کے راستے میں نہیں آتی بلکہ سیاسی پارٹیوں کو جو بھی متعلقہ اکثریت صوبائی اسمبلی میں حاصل ہو اس کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی ان کو مل جاتی ہے۔ لہٰذا پتا یہ چلا کہ سیکریسی آف بیلٹ یقیناً بڑی پابندی ہے لیکن یہ کوئی انمٹ قانون نہیں۔ کیونکہ اگر خواتین اور اقلیتوں کے بارے میں جو الیکشنز ہیں وہاں پر چھوٹ دی جاسکتی ہے تو دیگر معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہاں اس بحث کا احاطہ کرنے کی بھی ضرورت ہے جس میں سپریم کورٹ کے سامنے یہ جواز پیش کیا گیا کہ اگر تو ووٹ خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور سیکرٹ بیلٹ کے یہ نتیجے ہوتے ہیں تو پھر پارٹیوں کو قومی اسمبلی میں اس نوعیت کی نمائندگی نہیں ملے گی جو ان کی متعلقہ صوبائی اسمبلی میں موجود طاقت کے مطابق ہوں۔ میری نظر میں یہ سوال غیر متعلق ہے، کیونکہ کئی مرتبہ سیاسی پارٹیاں آپس میں معاہدے بھی کرتی ہیں اور اس کے نتیجے میں یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر ان کی متناسب نمائندگی قومی اسمبلی میں نہیں ہوتی۔ لہٰذا اہم سوال آرٹیکل 218 پر عملدرآمد کا ہے۔ آیا کہ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے آئین کے ماتحت انتخابات دیانتداری اور انصاف کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ کرپٹ سرگرمیوں کا ازالہ ہورہا ہے یا نہیں۔ اور اگر نہیں ہو رہا تو پھر ہم خفیہ بیلٹ سے کیا مراد لیتے ہیں۔ اس مسئلے کو کس نوعیت سے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے حل کیا جاسکتا ہے۔ میری ناقص رائے میں خفیہ بیلٹ کی حرمت ذیل کے مناسب انداز سے ہوسکتی ہے:

اگر تو کسی بھی عام آدمی کو یا کسی بھی متعلقہ یا غیر متعلقہ ادارے کو یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ہے، لیکن اگر دھاندلیوں سے ان الیکشنز کو پاک رکھنا ہے تو یقیناً سیاسی پارٹیاں اپنے ممبران سے حلف نامے لے سکتی ہیں، جس پر ممبران رضاکارانہ طور پر ازخود یہ کہیں کہ میں نے سینیٹ الیکشن میں پارٹی کے نامزد امیدواران کو ووٹ دینا ہے، اور اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کہ آیا ممبر نے ایسا کیا یا نہیں، سیکریسی آف بیلٹ پر قائم رہتے ہوئے اٹارنی جنرل نے جو تجویز پیش کی ہے کہ ایک unique bar code ہو جس کے ذریعے سے الیکشن کمیشن کسی متنازعہ ووٹ کے بارے میں پارٹی سربراہ کے استفسار پر معلومات دے سکے، اگر الیکشن کمیشن معاملات میں اس قدر سنگینی محسوس کرے کہ پارٹی سربراہ کو متعلقہ معلومات فراہم کرنا ضروری ہو تو وہ کرسکے، جسٹس (ر) وجیہ نے کہا۔

اسی سلسلے میں شیخ شوکت علی کے مس کنڈکٹ کے کیس کا سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ کیا تھا۔ وہاں پر سوال یہ تھا کہ کیا شیخ شوکت علی جج بننے کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے یا نہیں۔ تو ان کی طرف سے استدلال یہ تھا کہ وہ تو ایک پرائیوٹ کمپنی کے ممبر ہوں اور ان کاروبار میں کوئی فعال کردار نہیں۔ اس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ ہم پرائیوٹ کمپنی کے نقاب کو ہٹا سکتے ہیں اور حقیقت کیا ہے دیکھ سکتے ہیں۔

جسٹس (ر) وجیہ نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس حد تک الیکشن کمیشن اپنے رولز یا الیکشن اسکیم میں ترمیم کرسکتا ہے کہ وہ دھاندلی کے الزامات اگر کسی بھی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے سامنے آئیں اور اگر وہ جاننا چاہتے ہوں کہ ان کے ممبران نے اپنے حلف کی پاسداری کی ہے یا نہیں۔ تو مناسب کیسز کے اندر اٹارنی جنرل کا تجویز کردہ یونیک بار کوڈ استعمال ہوسکتا ہے۔ اور اس کے پیچھے جاکر دیکھنے کی ضرورت ہو تو الیکشن کمیشن اپنی صوابدید پر انصاف کرنے کا مجاز اگر قرار دیا جائے تو خفیہ رائے دہی کی حرمت بھی برقرار رہے گی اور دھاندلی کا جو خوف ہے وہ بھی دور ہوسکے گا، کیونکہ بادی النظر میں خود الیکشن کمیشن سمیت کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہوگا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا۔ لہٰذا یہ ایک تلوار ہے جو ووٹر کے سر پر منڈلاتی رہے گی، اس کی بنیاد پر شاید سینیٹ میں دھاندلی کے سلسلے پر کسی حد تک قابو پایا جاسکے۔ اور آئین کی جو شقیں ہیں ان میں سے ہر ایک کی اہمیت اپنی جگہ قائم و دائم دہ سکے۔