ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقوں سے بھارت آوْٹ

202

ایران، روس اور چین کی شمالی بحرہ ہند میں مشترکہ فوجی مشقوں سے بھارت آوٗٹ ہو گیا، بھارت نے ان مشقوں میں چین کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی بحریہ نے جاری کردہ بیان میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ  2 روزہ مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت نہیں کی جائے گی، بھارت نے ان مشقوں میں چین کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کیا۔

جبکہ کچھ دیر قبل ہی ایرانی بحریہ کے حکام نے کہا تھا کہ بھارت نے ان مشقوں میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا، تہران، ماسکو اور بیجنگ کی ہونے والی مشترکہ بحری مشقوں میں بھارت نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی لیکن آخری لمحے میں بھارت نے شرکت سے انکار کر دیا۔

بھارتی بحریہ کی مشقوں میں شمولیت کی تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں لیکن بظاہر چین کی بحری فوج کی موجودگی میں بھارت نے مشقوں میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی رویئے سے کنفوژن پیدا ہو گئی ہے کیونکہ ایرانی اور بھارتی ترجمانوں کے بیانات میں تضادات واضح نظر آ رہے ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ چالیس برسوں میں کسی بھی ایرانی وزیر دفاع نے بھارت کا پہلی بار دورہ کیا تھا، جس میں بھارتی بحریہ نے مشقوں میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اچانک سے بھارتی انکار نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

ایرانی سمندری حدود میں روس اور ایران کی بحری افواج کی مشترکہ فوجی مشقیں 2019 میں شروع ہوئیں تھیں، جس میں اس سال چین نے بھی شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال چین اور بھارت کے سرحدی فوجی تصادم کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں، بھارت اور چین کے سرحدی فوجی تصادم میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔