ڈاکٹر ماہا کیس، جنید خان اور وقاص رضوی قتل کے مشکوک ملزم قرار

222

ڈاکٹر ماہا کیس میں پولیس کی تفتیشی رپورٹ میں جنید خان اور وقاص رضوی قتل کو مشکوک ملزم قرار دے دیا گیا۔

تفتیشی پولیس ساؤتھ کے مطابق ڈاکٹر عرفان اور تابش کے ڈاکٹر ماہا سے زیادتی کے شواہد نہیں ملے، ڈاکٹرماہاواقعےکےروز3 گھنٹے37منٹ تک ڈاکٹرعرفان کےکلینک پررہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرفان قریشی مریضوں کودیکھنےکی مصروفیت کےباعث ماہاسےنہ ملے، میسجز کے تبادلے میں ڈاکٹر ماہا نے انتظار کے بعد بھی نہ ملنے کا گلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہا کوکین،دیگر نشہ آور چیزیں استعمال کرنے کی عادی تھی، ڈاکٹرماہاکونشہ آوراشیاانمول عرف پنکی اوراس کاگروپ سپلائی کرتاتھا جب کہ سعد صدیقی اورتابش نےغیرقانونی طورپرڈاکٹر ماہا کوپستول فراہم کیا۔

ستمبر میں دونوں ملزمان اس وقت عدالت کے احاطے سے فرار ہوگئے تھے جب ان کی عبوری ضمانت بعداز گرفتاری منسوخ اور ضمانت کی تصدیق کی درخواست مسترد ہوگئی تھی۔

 

خیال رہے کہ ایک جوڈیشل مجیسٹریٹ اس کیس میں گرفتار ہونے والے واحد ملزم ڈاکٹر عرفان قریشی کو حتمی تفتیشی رپورٹ جمع ہونے تک کے لیے ڈسچارج کرچکے ہیں، انہیں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی گئی تھی۔

 

ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے اہل خانہ کے مطابق جنید خان، وقاص حسن اور ڈاکٹر عرفان قریشی، جنہیں جزوی طور پر اس معاملے سے بری کردیا گیا ہے، نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہا کو ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا تھا اور ان کا استحصال کیا تھا اور اسے منشیات کا عادی بنایا جس کی وجہ سے بعدازاں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہا نے انہیں بتایا تھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق کام نہ کیا تو مشتبہ افراد کی طرف سے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کے دباؤ کی وجہ سے ڈاکٹر ماہا نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔