رنگ اور اُن کے اثرات

212

ہر رنگ مختلف جذبات اور احساسات پیدا کرتا ہے۔ رنگ اور جذبات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سخت رنگ ٹھنڈے رنگوں کے مقابلے میں مختلف جذبات کو جنم دے سکتے ہیں اور تیز رنگ مدھم رنگوں سے مختلف احساسات پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ رنگ کے نفسیاتی اثرات کس طرح پیدا ہورہے ہیں۔

رنگ ہمیں خوشی یا غم کا احساس دلاتے ہیں اور وہ ہمیں بھوک یا سکون بھی محسوس کراسکتے ہیں۔ یہ رد عمل نفسیاتی اثرات ، حیاتیاتی کنڈیشنگ اور ثقافت سے وابستہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ رنگوں کے ایک عام فرد پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کو سمجھنے کیلئے رنگوں کے بنیادی اصولوں اور اس کے معانی کو سمجھنا ضروری ہے ۔

جس طرح سے مختلف رنگ جذبوں کو متاثر کرسکتے ہیں ان کا انحصار زیادہ تر رنگ ، چمک اور اس کے پڑنے والے سائے پر ہوتا ہے۔ آئیے۔ سرخ ، نارنجی اور پیلے رنگ جیسے تمام رنگ حرارتی ہیں رنگ ہیں۔ گرم رنگ اکثر خوشی ، امید اور توانائی کے جذبات کو جنم دیتے ہیں۔ تاہم پیلے رنگ ، سرخ اور نارنجی رنگ خطرے کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں،

ٹھنڈے رنگوں میں سبز ، نیلے اور جامنی رنگ شامل ہیں۔ ٹھنڈا رنگ عام طور پر پرسکون اور راحت بخش ہوتا ہے لیکن وہ دکھ کا اظہار بھی ہوسکتا ہے۔ جامنی کو اکثر تخلیقی صلاحیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نیلے رنگ (پرسکون) اور سرخ کا مرکب ہے۔ اگر کوئی کمپنی صحت ، خوبصورتی یا سلامتی دکھانا چاہتی ہے تو ان رنگوں کو شامل کرتی ہے۔

خوش رنگ روشن ہوتے ہیں جیسے پیلے ، اورینج ، گلابی اور سرخ۔ آڑو کا رنگ یا ہلکے گلابی جیسے رنگوں کا بھی آپ کے موڈ پر ایک بہتر اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک رنگ جتنا روشن اور ہلکا ہوگا، اتنا ہی خوش بخش ہوگا۔

اداس رنگ وہ رنگ ہیں جو گہرے اور مدھم ہوتے ہیں۔ ان میں گرے، گہرا نیلا اور سبز ، بھورا یا خاکستری شامل ہیں۔ مغربی ثقافتوں میں کالے کو سوگ کا رنگ سمجھا جاتا ہے ، جبکہ کچھ مشرقی ایشیائی ممالک میں سفید ہے۔