جاپان میں صنفی تفریق کی نئی بحث‘ ٹوکیو اولمپکس کمیٹی کے چیئرمین مستعفی

158

جاپان میں رواں برس منعقد ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ یوشیرو موری کو یہ فیصلہ خواتین کی انتظامی صلاحیتوں سے متعلق اپنے ایک متنازع بیان کی وجہ سے کرنا پڑا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خواتین اجلاسوں کے دوران بہت زیادہ بولتی ہیں، جس سے بہت وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
متنازع بیان کے خلاف گزشتہ ہفتے جاپانی پارلیمان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان نے سفید گلابوں کے لیپلز کے ساتھ سفید رنگ کی جیکٹیں پہن کر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا (سفید گلابوں کے لیپلز سے مزین یہ سفید جیکٹیں دراصل امریکا میں20 ویں صدی کی خواتین کے دور ابتلا کے خلاف تحریک سے مشابہت کے طور پر پہنی گئی تھیں) اس احتجاج کے دوران حزب اختلاف کے مرد ارکان پارلیمان نے بھی ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرے کا اہتمام کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان نے کیا تھا، جس میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی شرکت کی، جن میں جاپانی کمیونسٹ پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی فار دی پیپل بھی شامل تھیں۔ واضح رہے کہ2019ء اور 2020ء کے دوران امریکا میں خواتین ارکان پارلیمان کے ایک گروپ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے مظاہروں کا انعقاد کیا گیا تھا۔
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس بیان کے خلاف شدید رد عمل کے نتیجے میں یوشیرو موری نے معذرت کرتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لیے لیکن یہ مسئلہ اب ایک سیاسی اسٹنٹ کے طور پر اٹھایا جارہا ہے جبکہ حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اس صورت حال میں حزب اختلاف کے ان مظاہروں کو مسترد کردیا ہے، تاہم معاملہ صرف یہیں تک محدود نظر نہیں آتا۔ انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا جس میں موری کے بیان کو انتہائی غیر مناسب قرار دیا گیا ہے جبکہ ٹوکیو اولمپکس کے 390 رضاکاروں نے موری کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس ایونٹ میں خدمات کی انجام دہی سے انکار کردیا ہے۔ دوسری جانب حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکنڈ انچارج توشی ہیرو نکائی نے رضاکاروں کی جانب سے خدمات کے انکار کو بالکل بھی اہمیت نہ دیتے ہوئے ان کے متبادل رضاکاروں کے تقرر کا عندیہ دیا ہے جسے خود حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اولمپک سیکو پاشی موتو نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور غیر مناسب قرار دیا۔ اس معاملے پر بظاہر موری کی پشت پناہی کے باوجود بین الاقوامی اور عوامی سطح کے دباؤ کے باعث ایل ڈی پی کسی فیصلے پر تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے۔
ٹوکیو گیمز اسپانسر اور 1984ء میں لاس اینجلس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے جوڈو چیمپئن اور ایتھلیٹ یاما شیتا نے بھی موری کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے صنفی تعصب پر مبنی بیان قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ غلط یا صحیح سے قطع نظر اب جبکہ موری اپنے بیان پر معذرت کر چکے ہیں، اس موضوع پر مزید گفتگو مناسب نہیں ہے۔ موری کے تنازع بیان کے خلاف ڈیڑھ لاکھ افراد نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے اور ان پر خواتین کے لیے متعصبانہ رویہ رکھنے کی مذمت کی۔
ملکی اور عالمی سطح پر شدید ردعمل کے بعد موری نے اپنے بیان کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موری کا کہنا تھا کہ ان کے نامناسب بیان سے خاصی پریشانی پیدا ہوئی اور وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خواتین کے خلاف کوئی تعصب نہیں رکھتے، تاہم اس دوران جاپان میں ایک نئی صنفی تفریق پر ملک گیر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے خواتین کو اولمپکس کی انتظامی کمیٹی میں مرکزی ذمے داریاں دینے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں جاپانی میڈیا نے انتظامی کمیٹی کے منصب کے لیے 3 خواتین کے نام بھی پیش کیے ہیں، جن میں 2 اولمپکس مقابلوں میں شریک ہو چکی ہیں۔ ان میں ایک کاؤری یاماگوچی ہیں جو 1988ء کی اولمپک گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتی تھیں۔ دوسری میکاکا کاٹانی ہیں، وہ 1988ء کے اولمپکس میں دو کانسی کے تمغے جیت پائی تھیں۔تیسری ایتھلیٹ گولڈ میڈل جیتنے والی ناؤکو تاکہاشی ہیں۔ اس کے علاوہ کھیلوں کی موجودہ وزیرسیکو ہاشی موتو کا نام بھی اس عہدے کے لیے سامنے آ رہا ہے۔
83 سالہ موری نے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار 1969ء میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی نشست جیتی تھی۔ اُنہوں نے مسلسل 14 بار انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ حکومت اور اپنی جماعت کے کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد وہ اپریل 2000ء سے تقریباً ایک سال وزیراعظم رہے۔ وہ سیاست سے 2012ء میں سبکدوش ہو گئے اور دو سال بعد ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کی انتظامی کمیٹی کے صدر کا منصب سنبھالا۔ انہوں نے ان کھیلوں کے لیے تیاری کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔
واضح رہے کہ ٹوکیو اولمپکس 23 جولائی سے شروع ہوں گے اور ان کھیلوں میں تقریباً 11 ہزار اتھلیٹس اور اہلکار شریک ہوں گے۔ اولمپکس کے فوری بعد پیرالمپک گیمز کا بھی انعقاد ہو گا اور ان میں ساڑھے 4 ہزار کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے۔ ایک حالیہ سروے میں 80 فیصد لوگوں نے اولمپکس کے انعقاد کی مخالفت کی ہے یا انہیں ملتوی ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ اولمپکس گیمز کے انعقاد کے حق میں صرف 15 فیصد افراد نے رائے دی ہے۔