سیاست سیاستدانوں کے لیے

201

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ فوج پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام لگانے والے ثبوت بھی دیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ سیاست سے کوئی تعلق ہے نہ کسی سے بیک ڈور رابطے۔ بغیر تحقیق سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ پی ڈی ایم سے رابطوں کی چہ مہ گوئیاں کی جارہی ہیں اس حوالے سے قیاس آرائی کی کوئی بنیاد نہیں۔ فوج سیکورٹی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے جو کچھ کہا اسے وہی کہنا چاہیے تھا۔ کیونکہ آج تک فوجی انقلاب کے سوا کبھی فوج نے یہ نہیں کہا کہ ہم سیاست میں مداخلت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ جب کہ برما کے فوجی حکمران نے کہا ہے کہ عوام فوجی بغاوت پر احتجاج نہ کریں، احتجاج کو طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ پاکستان میں جنرل ایوب نے منتخب حکومت کی جگہ سنبھالی تو علی الاعلان کہا کہ فوج نے سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے حکومت سنبھالی ہے۔ جنرل ضیا الحق نے بھی یہی کہا اور جنرل پرویز مشرف بھی کم و بیش یہی کہتے تھے۔ لیکن کیا ان تین مواقع کے علاوہ پاکستان کی سیاست میں کبھی فوجی مداخلت نہیں ہوئی؟ ساری دنیا بہت کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہمت کس میں ہے کہ فوج کے خلاف ثبوت لائے۔ ثبوت تو نیب سیاستدانوں کے خلاف نہیں لاسکا۔ حکومت سابق حکمرانوں کو چور چور کہتی آرہی ہے لیکن اس چوری پر ان کے پاس بھی ثبوت نہیں۔ تو کس میں دم ہے کہ فوج کے خلاف ثبوت لے آئے۔ اسی طرح اس معاملے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بات بھی قابل غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ترجمان نے سیاست میں مداخلت کی تردید کی ہے لیکن یہ کون بتائے گا کہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کس نے کی۔ یہ سوال شاہد خاقان عباسی سے بھی ہے کہ یہ بتائے گا کون… یعنی ثبوت کون لائے گا۔ اس حوالے سے محاورہ مشہور ہے کہ گھنٹی کون باندھے گا۔ لیکن آج کے دور میں کسی گھنٹی کی ضرورت نہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ثبوت بھی ہمیشہ بیرون ملک سے آتے ہیں۔ خواہ سیاستدانوں کے پاناما والے ہوں یا فوج کے رابطوں والے۔ اب جس میں ہمت ہو وہ غداری کا الزام اپنے سر لے کر ثبوت پیش کردے۔ لیکن پاک فوج کے ترجمان سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز سے تو پوچھیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ دو روز قبل مریم نواز نے کہا تھا کہ حکومت کو لانے والے ہم سے رابطے کررہے ہیں۔ یہ بات تو مریم نواز کو بتانی چاہیے کہ ان سے کس نے رابطہ کیا اور کیا پیشکش کی یا کیا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل مولانا فضل الرحمن بھی اسٹیبلشمنٹ اور راولپنڈی کی بات کرچکے ہیں لیکن انہوں نے کچھ ہی دن بعد یوٹرن لے لیا تھا۔ فوج کے سیاست دانوں سے رابطوں کی بات اور الزام کی بات تو کی جارہی ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ فوج پر الزام کس نے لگایا ہے۔ سیاستدانوں اور صحافیوں میں تو یہ ہمت نہیں کہ وہ فوج کے بارے میں ثبوت لائیں۔ لیکن ترجمان صاحب تو زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں وہ تو ان سیاستدانوں کا نام لے سکتے ہیں جنہوں نے فوج پر الزام لگایا ہے ان کے لیے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔ یہ بات بجا ہے کہ جو بھی الزام لگائے اسے ثبوت دینا چاہیے لیکن یہاں روایت کہاں ہے ثبوت دینے کی۔ خود فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والوں کے مقدمات جب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں گئے تو عدم ثبوت کی بنا پر ملزمان رہائی پا گئے۔ اگر ثبوت دینے کی روایت ہوتی تو ہزارہا لوگ لاپتا نہ کیے جاتے بلکہ گرفتار کرکے ثبوت عدالتوں کے سامنے رکھے جاتے۔ سب سے بڑھ کر یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کہا کچھ جاتا ہے اور کیا کچھ اور جاتا ہے، تو کیا ایسا ہی ہورہا ہے جیسا کہا جارہا ہے۔ یقینا ایسا ہو نہیں رہا جیسا دونوں جانب سے کہا جارہا ہے۔ فوج کو گھسیٹنے کا الزام اس مرتبہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومتی حلقوں کی طرف سے لگایا جارہا ہے کیونکہ ترجمان نے پی ڈی ایم سے رابطوں کی چہ مگوئیوں کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال یہ بھی محل نظر رہنا چاہیے کہ گھسیٹا اس کی ٹانگ کو جاتا ہے جو کسی جگہ اڑی ہوئی ہو۔ دنیا کے درجنوں بلکہ سیکڑوں ممالک میں فوج ہے اور جمہوریت بھی۔ لیکن ان میں سے اکثر میں یہ آواز کبھی نہیں آتی کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ یا تو فوج سیاست میں ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ ترجمان کا یہ کہنا بجا ہے کہ سیاست کو سیاستدانوں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ اس بات کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اور اس پر فوج حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہونا چاہیے کہ سیاست کو سیاستدانوں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ غلط کریں گے تو بھی ان کا احتساب ہوجائے گا اور صحیح کریں گے تو بھی ان ہی کو فائدہ ہوگا۔ بس تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کریں تو پھر کوئی خرابی نہیں ہوگی۔ عدلیہ بھی دیکھ رہی ہے۔ اسے بھی اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔