کشمیر آزاد کرادیں… زبردست آدمی بن جائیں

144

وزیراعظم عمران خان نے تین سال چور چور کا شور مچانے کے بعد شکست تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نواز شریف کو جلد واپس نہیں لاسکتے۔ وہ دم دبا کر باہر بیٹھا ہوا ہے۔ بھائی اور منشی تک کے بچے پیسا چوری کرکے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ خود کو سمجھدار اور عوام کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے خیال ظاہر کیا کہ لوگ چوروں کے لیے سڑکوں پر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر بھی کہا کہ اگر اپوزیشن کو این آر او دے دیا تو یہ کہیں گے کہ عمران سے زیادہ زبردست آدمی نہیں۔ وزیراعظم صاحب کے اس قسم کے بیانات پر متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین اور سربراہ حزب المجاہدین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا شکریہ اب عملی اقدامات بھی کریں۔ اسی طرح وزیراعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ چور چور کا شور بند کرکے اب عملی اقدامات بھی کریں۔ انہوں نے ایک بار پھر چور چور کا شور مچایا ہے اور زبان بھی غیر معیاری استعمال کی ہے۔ کسی وزیراعظم کے شایان شان اس قسم کے جملے نہیں ہوتے جیسے وہ ادا کررہے ہیں۔ مودی تم جیت نہیں سکتے یا ’’دم دبا کر باہر بیٹھا ہے‘‘ یہ سب سیاسی جلسوں کے جملے ہیں۔ وزیراعظم نے نواز شریف کو جلد لانے میں ناکامی کا اعتراف تو کر لیا لیکن ان سے اگر کوئی پوچھے کہ پھر اونچے اونچے دعوے کیوں کیے تھے۔ کہ جس روز اقتدار میں آئوں گا اگلے روز لوٹی ہوئی دولت برآمد کر لوں گا۔ چوروں کو لٹکا دوں گا۔ ان کے دعوے اپنی جگہ چور تو نہیں لٹکے قوم لٹکی ہوئی ہے۔ اسی طرح حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے ٹھیک کہا کہ اب عملی اقدام کا انتظار ہے اور عملی اقدام حکومت ہی کو کرنا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ہم تو حکومت کے حکم کے پابند ہیں۔ تو پھر عمران خان کو کس چیز نے روک رکھا ہے۔ ان کے للکارنے سے مودی باز آنے والا نہیں۔ کشمیر کے لیے عملی اقدام ضروری ہے۔ این آر او نہیں دیں بلکہ کشمیر آزاد کرادیں سارا پاکستان کہے گا کہ عمران زبردست آدمی ہے۔ لیکن مسئلہ یہی تو ہے کہ عمران خود کسی کے زیردست ہیں۔