اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

499

تازہ ترین خبروں کے مطابق بدعنوانی کے خلاف سرگرم بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے گلوبل کرپشن انڈیکس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 درجے بڑھ گئی، کرپشن کے لحاظ سے 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر124 ہو گیا ہے۔ 2019 میں کرپشن سے متعلق اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 120 تھا جبکہ 2020 میں پاکستان 4 درجے مزید گر کر 124 نمبر پر آ گیا ہے۔ اسی رپورٹ کے تناظر میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ’’پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کرپشن کا مرض وبا کی طرح معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ بدعنوانی اور نااہلی حکومت کا ٹریڈ مارک بن گیا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے وزیراعظم کے احتساب کے نعروں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے‘‘۔
یہ ضروری نہیں کہ ٹرانسپرنسی کی ہر بات حرف آخر ہی ہو۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں کسی حد تک جانبداری یا غلو سے کام لیا گیا ہو لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو رد کرنے یا اس میں درج اعداد وشمار پر شک کا اظہار کرنے کے وزیر اعظم، ان کی ترجمانوں اور وزرا کی جانب سے جس قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں وہ بجائے خود عقل و فہم سے ماورا ہیں۔ کبھی یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ اعداد وشمار ان کے دور کے بجائے ن لیگ کے دور کے ہیں اور کبھی کوویڈ 19 کی تباہ کاریوں کو بطور عذر پیش کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ ’’سستی‘‘ جس کو آج کل کی ماڈرن زبان میں ’’چیپ‘‘ کہا جاتا ہے وہ یہ بات ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے حواری یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ جب اس رپورٹ کا اردو ترجمہ سامنے لایا جائے گا تب پتا چلے گا کہ اس کرپشن کا اصل ذمے دار کون ہے۔
واضح رہے کہ رپورٹ میں نہایت واضح طور پر 2018، 2019 اور 2020 کے دورانیے درج ہونے کے باوجود یہ کہنا کہ اس رپورٹ کا تعلق کس کس کے دور سے ہے، ایسی لایعنی بات ہے جس کے جواب میں ’’ایک چپ سو کو ہرائے‘‘ والی بات پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی راستہ اختیار کرنا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہ ہوگا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ملک کا ایک وزیر اعظم، ان کے سارے ترجمان اور وزرا اپنی ہی قوم کے ایک ایک بچے کو جاہل جپٹ قرار دیتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قوم کا ایک ایک بچہ انگلش سے نابلد ہے اور جب ’’ہم‘‘ اس رپورٹ کا اردو ترجمہ جاہلوں کے سامنے پیش کریں گے تب قوم کو سمجھ میں یہ بات آئی گی کہ پاکستان کا میڈیا قوم کے سامنے جس ’’ترجمے‘‘ کے ساتھ ٹرانسپرنسی کی رپورٹ پیش کر رہا ہے وہ حقیقت نہیں بلکہ بہتان تراشی ہے جو بے گناہوں کے سر منڈھی جا رہی ہے۔
تھوڑی دیر کے لیے اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس رپورٹ میں جس دورانیے کی اعداد وشمار درج کیے گئے ہیں اس کا تعلق موجودہ دور حکومت سے نہیں تب بھی یہ بات تو سوچنا چاہیے کہ رپورٹ میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ ن لیگ یا پی پی پی نے کرپشن کی ہے، ذکر ہے تو پاکستان کا ہے۔ کیا پاکستان کی بدنامی وزیر اعظم اور ان کے وظیفہ خواروں کے نزدیک اتنی اہم نہیں جتنی اہم بات ن لیگ یا پی پی پی کا بدکردار ثابت ہونا۔
بے شک پاکستان کے عوام جاہل اور گنوار ہی سہی، لیکن اتنا تو کیا جا سکتا تھا کہ وزیر اعظم از خود یا ان کے سارے خوشامدی ہی رپورٹ کا ترجمہ کرکے حقائق سب کے سامنے لے آتے۔ عوام کے سامنے حقائق بیان نہ کرنا اور یہ کہہ کر کہ اردو ترجمے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، اس جانب واضح اشارہ ہے کہ اب جو کچھ بھی عوام کے سامنے آئے گا وہ اتنا تحریف شدہ ہوگا کہ اس میں حقائق کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا جائے گا۔
گزشتہ ڈھائی برسوں سے میں این آر او نہیں دوں گا، کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا، لوٹی ہوئی دولت واپس لاکر دکھاؤں گا، ڈالر کو بے قدر کرکے رکھ دوں گا، پٹرولیم مصنوعات کو ارزاں کر دوں گا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو آسمان سے اتار کر زمین پر لے آؤں گا، کروڑوں نوکریاں دوں گا، لاکھوں بے گھروں کو 50لاکھ گھر تعمیر کرکے دوں گا، بجلی اور گیس سستی کر دوں گا، ہر جانب دودھ اور شہد کی نہریں بہادوں گا اور کسی کرپٹ انسان کو پاکستان میں رہنے نہیں دوں گا کا نعرہ لگانے والے نہ تو اپنی کسی بات پر عمل کرا سکے اور نہ ہی ان تمام دعوں کو اسی مقام پر برقرار رکھ سکے جہاں بقول وزیر اعظم ان کے پچھلے ان کے لیے چھوڑ کر گئے تھے۔ نہ صرف یہ کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ان کے دعوں کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ ان کا ہر ایک خوشمامدی اپنی اپنی بغلیں جھانکتا پھر رہا ہے۔ ایسے عالم میں مختصراً اتنا ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
بہتر یہی ہے کہ وزیر اعظم صاحب اپنے دائیں بائیں بیٹھے سب خوشامدیوں کا از سر نو جائزہ لیں۔ جب آپ ان کو غور سے دیکھیں گے تو ان کے شکلوں میں سارے گزشتہ حکومتوں والے صاف صاف نظر آنے لگیں کے۔ اگر آپ اب بھی اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز نہ کر سکے تو ممکن ہے آپ ہر ہر مقام پر کفِ افسوس ملتے ہوئے اپنے ہی منہ سے یہ کہتے نظر آئیں کہ
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی