بھارت میں نہتےکسان مظاہرین کو روکنے کے لیے جنگی طرز پر انتظامات

223

نیودہلی: بھارتی زرعی قوانین سے تنگ کسانوں کا دھرناجاری ہے، 6فروری کو پورا بھارت بند کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں ،نہتے مظاہرین کو روکنے کے لیے جنگی طرز پر انتظامات کیے جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کسان 3مہینے سے دھرنادیے ہوئے ہیں، جس میں 70سے زائد کسان جاں بحق ہوچکے ہیں، ہزاروں کسانوں کو خاردار تاروں اور کنکریٹ سے گھیر لیا ہے، سڑکوں پر کیلیں اور آہنی تاروں کا حصار کرکے  دلی کو قلعے میں تبدیل کردیا ہے۔

India farmer protests: 'War-like fortification' to protect Delhi - BBC News

ایسے میں بھارتی کسانوں کا کہنا تھا کہ زرعی قوانین کی پالیسی پر اپنے مطالبات منوانے تک احتجاج جاری رہے گا، بی جے پی کے غنڈوں سے ڈرنے والے نہیں، مودی سرکار ظلم ڈھانے کے بجائے ہمارے مطالبات کو منظور کریں، مودی ایجنڈا نا منظوراپنےمطالبات پر قائم ہیں۔

کسانوں کے دھرنوں کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے غازی پور بارڈر سمیت پورے بھارت میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، جہاں جگہ جگہ خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں، جس کے بعد طلبہ اور سماجی کارکن بھی کسانوں کی حمایت میں بول پڑے۔

بھارتی کسانوں پر مظالم  پر بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی ہونے لگی، بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکارہ ریحانہ نے بھی مظاہرین کے حق میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بھارت میں جاری کسانوں پر ظلم پر ہم بات کیوں نہیں کرتے ، مودی سرکار وحشیانہ بربریت کے بجائے کسانوں کے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرے۔

واضح رہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعے پر پولیس نے وحشیانہ کریک ڈاؤن کرکے بھارتی کسانوں پر مظالم ڈھائےتھے، جس کے بعد کسانوں کے عزم میں مزید پختگی آگئی ہے۔