لٹیرے دولت جمع کرادیں ، استعفا دے دوں گا ، وزیر اعظم

161
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میںکورونا سے بچائوکی پہلی ویکسین ایک ڈاکٹر کو لگائی جارہی ہے

 

اسلام آباد(آن لائن /صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لٹیرے دولت پاکستانی قوم کو واپس کردیں،تو میں کل ہی استعفا دینے کو تیار ہوں31 دسمبر گزر گیا، 31 جنوری گزر گئی، مگر اپوزیشن کچھ نہ کرسکی ، اپوزیشن نہ لانگ مارچ کرسکی نہ ہی لوگوِں کو اکٹھا کرسکی، استعفے دینے کے لیے جرات اور کردار کی ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو وزرا کے پارلیمنٹ اجلاسوں میں حاضری کی رپورٹ پیش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے عمر ایوب اور حماد اظہر کی پارلیمانی کارکردگی کی تعریف کی جبکہ دیگر وزرا کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ پوری قوم کا نمائندہ فورم ہے جہاں ہر وزیر جوابدہ ہے، جمہوریت مضبوط کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کے استعفوں کی ڈیڈلائن ختم ہونے کا ذکر بھی سامنے آیا جس میں وزیراعظم نے اپوزیشن کو اپنے استعفے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا
کہ اپوزیشن رہنما قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں میں استعفا دینے کو تیار ہوں، استعفا دینے کے لیے ہمت و جرات چاہیے ۔جن کا پیسہ پوری دنیا میں پڑا ہو وہ استعفے دینے کی جرات نہیں رکھتے، اگر ان میں استعفے دینے کی ہمت ہوتی تو این آر او کرکے ملک سے نہ بھاگتے، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ملک کا لوٹا پیسہ واپس کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کیا نہ ہی لوگوں کو اکٹھا کر سکی، ساری زندگی جھوٹے وعدے کیے اور اس بار بھی قوم کے ساتھ استعفوں کا جھوٹ بولا، اب استعفے دینے کے بجائے اپوزیشن سینیٹ کے فضائل بیان کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے وزرا کی سیکورٹی اور پروٹوکول سمیت پیر کی شب اسلام آباد میں 4نوجوانوں کو کچلنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں۔ وزیراعظم نے وزرا کی سیکورٹی اور پروٹوکول سے متعلق کہا کہ وزرا سیکورٹی کے نام پر سرکاری وسائل کا غیرضروری استعمال نہیں کرسکتے، وزرا کی اضافی سیکورٹی واپس لینے کی ہدایت کی۔ وفاقی کابینہ نے انٹرنیشنل ائر لائن کے لائسنس کی تجدید نو کا فیصلہ موخر کردیا۔ آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کے لیے بھارت سے لاک پتھر درآمد کرنے کا معاملہ بھی موخر کردیا گیا۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کردی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے26جنوری کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی۔ کابینہ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانونی مقدمات کے 21جنوری کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد میں لاپتا افراد سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ کابینہ اجلاس کو نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کم لاگت گھروں کی تعمیر و خریداری سے متعلق حکمت عملی کی منظوری دی گئی ، 830ارب روپے لاگت کے 2لاکھ سے زاید رہائشی یونٹس کی تعمیر کا منصوبہ 2021 میں شروع ہو جائے گا۔