ستارہ حیدری اسکول نئی کراچی میں گٹر کا پانی بھرگیا،بچوں کی جانوں کو خطرہ

206

کراچی کے علاقے نئی کراچی سیکٹر الیون ڈی میں ستارہ حیدری گورنمنٹ اسکول کی حالت زار انتہائی ابتر ہوگئی۔ گٹر کا پانی بھرجانے کے باعث بیماریاں پھوٹنے لگیں، دیواریں اور چھتیں بھی مخدوش ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ کلاسز اور اسکول کا میدان بھی گندے پانی اور کیچڑ کا جوہر بن گیا۔

اسکول میں گٹر کا پانی بھرنے کے باعث والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کررہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ستارہ حیدری اسکول کا شمار نئی کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہوتا ہے جو کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے ہزاروں طالب علموں کو علم سے آراستہ کر چکا ہے، مگر اس وقت اس کی صورت حال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔

اسکول میں موجود کلاسوں کے دورازے اور کھڑکیاں بھی ٹوٹ چکی ہیں، جبکہ دیواروں کی صورت حال بھی انتہائی مخدوش ہوچکی ہے جو کہ کسی بھی وقت گرکر کسی بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ اسکول کی صورت حال پر انتظامیہ اور حکمران بھی خاموش دکھائی دے رہے ہیں، ان سے رابطہ کرنے پر بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا ہے۔ اسکول میں پینے کے پانی اور واش روم کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔

طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں کے لیے موجود کلاسیں تو انتہائی مخدوش ہیں جن کی چھتیں بھی جھڑرہی ہیں جس کے باعث ہمارے بچوں کی جانوں کو خطرہ ہے، مگر دوسری طرف اسکول میں آفس اور پرنسپل کے دفتر کی تزئین و آرائش کی گئی ہے جس میں دیواروں پر ٹائلز اور ماربل کے فرش کے ساتھ ساتھ لگژری باتھ روم بھی بنایا گیا ہے، جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے ملنے والا فنڈ ان پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ محمکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بگھت سے آپس میں تقسیم کردیا جاتا ہے اور مسائل جوں کے توں ہیں، جو کہ تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسکول میں نشئی لوگوں نے ڈیرے ڈال دیئے جبکہ دو درجن سے زائد کتے اسکول میں دندناتے پھرتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔