ڈینیل پرل قتل کیس: عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکالنےکا حکم

347

اسلام آباد: سپریم کورٹ نےانٹرنیشنل صحافی اور امریکی باشندے  ڈینیل پرل قتل کے ملزمان احمد عمر شیخ اور دیگر کو ڈیتھ سیل سے فوری نکالنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ ملزم احمد عمر شیخ کو 2 دن تک عام بیرک میں رکھا جائے گا اور دو دن بعدعمر شیخ کو سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منتقل کردیاجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی سےمتعلق نظرثانی اپیل پرجسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی جس پر سپریم کورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں زیرحراست افراد کی رہائی فیصلہ معطل کرنے کی استدعا پھر مسترد کرتے ہوئے احمدعمر شیخ اور دیگر کوڈیتھ سیل سے فوری نکالنےکا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں تمام زیر حراست افراد کو2دن عام بیرک میں رکھا جائے۔

سماعت میں جسٹس منیب اختر کا کہناتھاکہ ملزمان کی حراست بظاہر صوبائی معاملہ لگتا ہے، وفاقی حکومت نےاپنا اختیار صوبوں کوتفویض کردیا، بظاہرتوصرف ایڈووکیٹ جنرل سندھ کونوٹس دینا بنتا ہے جبکہ درخواست گزار نےقانون کو چیلنج نہیں کیا جو اٹارنی جنرل کونوٹس دیاجاتا، بظاہراٹارنی جنرل کااعتراض نہیں بنتا کہ انہیں کیوں نوٹس جاری نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل کاکہنا تھا کہ عدالت وفاقی حکومت کو اس کےاختیارسےمحروم نہیں کر سکتی، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ کا کہناتھا کہ اٹارنی کسی اختیار کو استعمال  کرنے کے لئے مواد ہونا چاہیے ، صوبائی حکومت کےپاس ملزمان کوحراست میں رکھنے کا مواد نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق کے پاس مواد ہو سکتا  ہے تو جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ وفاق نے وہ مواد صوبے کو فراہم کیوں نہ کیا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلےکی وجوہات نہیں پڑھیں، بد نیتی یہ تھی باربار حراست میں رکھنے کے احکامات جاری ہوئے، وفاق دکھا دے ان لوگوں کیخلاف اس کے پاس کیاموادہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے مزید کہا ہر کیس کی ایک تاریخ ہو تی ہے، اس مقدمےکی تاریخ کاہمیں نہیں معلوم، کیا مرکزی ملزم پاکستانی شہری ہے یا غیر ملکی، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احمد عمر شیخ کے پاس پاکستان اوربرطانیہ کی شہریت ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کسی کوحراست میں رکھنے کا مطلب ہے نوٹرائل، احمد عمر شیخ 18 سال سےجیل میں ہے، الزام اغواکا تھا جبکہ جسٹس سجاد علی نے کہا قتل کی ویڈیو میں بھی چہرہ واضح نہیں تھا۔

اےجی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پیشی کیلیے سندھ پولیس سےبھی ریکارڈحاصل کررہے ہیں، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا سندھ پولیس کے پاس توایف آئی آرہی ہوں گی، ایف آئی آرکےعلاوہ پولیس سےکیاملےگا تو اےجی سندھ کا کہنا تھا کہ کیس میں آئندہ ہفتےتک حکم امتناع دیاجائے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیاکہ کس بنا پر حکم امتناع دیا جائے، بغیر شواہد کسی کو دہشتگرد قرار دینا غلط ہوگا، حکم امتناع کیلئے5منٹ میں دلائل دیں۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول اور مچھ دنیا میں کہیں نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے کہاکہ جن کارروائیوں کا ذکر کیا ان سے احمد عمر شیخ کا تعلق کیسے جڑتا ہے؟ ، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئےکہ کل تک آپ کا اعتراض تھاہائیکورٹ نے وفاق کو نہیں سنا، آج دلائل سے لگ رہا ہے، نوٹس نہ کرنے والا اعتراض ختم ہوچکا ہے ، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میرا اصل اعتراض نوٹس والا ہی ہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی نہیں تھی۔

واضح رہے  احمد عمر شیخ عام ملزم نہیں، دہشت گردوں کا ماسٹر مائنڈ ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ احمد عمر شیخ کا دہشت گردوں کے ساتھ تعلق ثابت کریں جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ نےکہاکہ احمد عمر 18 سال سے جیل میں ہے، دہشتگردی کے الزام پر کیا کارروائی ہوئی؟

سپریم کورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا زیر حراست افراد کی رہائی فیصلہ معطل کرنے کی استدعا پھر مسترد کرتے ہوئے احمدعمر شیخ  اور دیگر کوڈیتھ سیل سے فوری نکالنےکا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں تمام زیر حراست افراد کو2دن عام بیرک میں رکھا جائے اور دو دن بعد عمر احمدشیخ اوردیگر کو سرکاری ریسٹ ہاؤس میں رکھا جائے  جہاں سرکاری ریسٹ ہاؤس میں اہلخانہ صبح 8 سےشام 5 بجے تک ساتھ رہ سکیں گے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہاکہ سندھ حکومت احمد عمر شیخ کو 2سے 3جیل میں کسی کھلی جگہ پر رکھے، ہماری معلومات کے مطابق عمر احمد شیخ کےاہلخانہ لاہور میں رہتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کیا اہلخانہ کوکراچی لانے اور ٹھہرنےکے اخراجات سندھ حکومت برداشت کرے گی؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ عدالت کاحکم ہو تو اخراجات اور انتظامات سندھ حکومت ہی کرے گی۔