پیٹرول قیمتوں میں پانچویں بار اضافہ ظلم کی انتہا ہے ،حافظ نعیم الرحمن

259

کراچی(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2ماہ کے دوران پانچویں مرتبہ اضافہ کر کے ستم رسیدہ اور مہنگائی کے مارے عوام پر ظلم کی انتہا کر دی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان ایک طرف عوام کو مہنگائی کم ہونے کی خوشخبری سنا رہے ہیں اور دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات کی
قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مسلسل مہنگائی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم کے بیانات اور اقدامات میں واضح تضادات کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ وفاقی حکومت کو اگر واقعی عوام کے مسائل ، پریشانیوں اور مشکلات سے کوئی دلچسپی ہے تو وہ پیٹرول کی قیمتوں میں کیا جانے والا مسلسل اضافہ فی الفور واپس لے اور اقتدار میں آنے سے قبل اسد عمر کے دعوئوں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں لائے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے رجحانات کے باوجود ملک میں قیمتوں میں اضافہ عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور نا انصافی ہے ۔ غریب اور مہنگائی کے شکار عوام پر مزید ظلم نہ ڈھائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی اور ناکام اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملک میں پہلے ہی مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے اور ہوش ربا مہنگائی نے عوام کے ہوش اُڑادیے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو عوامی مشکلات و پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کر نے میں ناکام ثابت ہو ئی ہے لیکن مسلسل عوام کو نوید سنائے جارہی ہے کہ حالات جلد بہتر ہوں گے ۔حکومت میں آنے سے قبل موجودہ حکمرانوں کی جانب سے مسلسل تنقید کی جاتی تھی کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بلا وجہ ٹیکس عاید ہیں اور یہ ٹیکس ختم کردیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت بہت کم ہو جائے گی اور 50روپے فی لیٹر پیٹرول فروخت کیا جاسکتا ہے مگر آج حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔قیمتوں میں بار بار اضافے کے باعث کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروریات ِ زندگی کی قیمتوں میںغیر معمولی اضافہ عوام کی قوت برداشت سے باہر ہوتاجا رہا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل عوام کو ریلیف دینے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بہت دعوے اور وعدے کرتے تھے مگر حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنے تمام وعدے اور دعوے بھول گئے ۔ عوام غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری سے آج جتنے پریشان اور بد حال ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔