عدالت کا نااہلی کی تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم

231

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی نااہلی کیلیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورت کا کہنا ہے کہ نااہلی کی درخواستوں پر ایک ہی بار فیصلہ دے دیتے ہیں تاکہ ہم اصل سائلین کو سنیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پرسماعت ہوئی، عدالت نے رجسٹرار آفس کو تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کی نااہلی کیلئے دائر تمام درخواستوں پر ایک ہی بار فیصلہ ہوگا اور ایک ہی بار یہ معاملہ نمٹا دینا چاہتے ہیں تاکہ اصل سائلین کو سن سکیں،9 مارچ کو تمام درخواستیں یکجا کرکے مقرر کی جائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہم نے فیصلہ دیا تو اس بار نااہلی کی تمام درخواستوں کو اکٹھا کرکے دیں گے، عدالتوں کو سیاسی معاملات میں استعمال کرنے سے عدالت کا نقصان ہوتا ہے اور جب کسی عوامی نمائندے کو نااہل کریں تو نقصان حلقے کے عوام کا ہوتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جسٹس کھوسہ نے پارلیمنٹ کو یہ بھی کہا تھا کہ 62 ون ایف میں ترمیم کریں، اگر یہ ایسے ہی رہا تو ہم سب اس قانون کے تحت نااہل ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کیس کی سماعت کیلے خود عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے جو کیس آیا یہ بلیک میلنگ کا کلاسک کیس ہے، سمیع ابراہیم کی درخواست ہرجانے کے ساتھ خارج کی جائے یہ کوئی طریقہ نہیں کہ پہلے کوئی بلیک میلنگ کرے اور پھر پیسے مانگے اور بلیک میلنگ سے بچانا بھی عدالت کا کام ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فوادچوہدری سے کہا کہ جو بلیک میلنگ کا کلچر آپ بتارہے ہیں اسے تبدیل کرنا بھی آپ کا کام ہے اور ہم اس بلیک میلنگ کے کلچر کے خلاف کھڑے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ججوں کو گالیاں دی جارہی ہیں تاہم سیاسی قائدین چاہیں تو یہ گالی کا کلچر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔