سندھ حکومت نے عمر شیخ کی رہائی کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کردی

411

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی باشندے اور صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فیصلے کے خلاف درخواست دائر وفاقی اور سندھ حکومت ساتھ مل کر کریں گے تاہم سندھ حکومت نے ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزم عمر شیخ کی رہائی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کردی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو احمد عمر سعید شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی فیصلے کے فوراً بعد ہی وزارت قانون اور سندھ محکمہ قانون کے درمیان رابطوں کا آغاز ہو گیا تھا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے ملزم احمد عمر شیخ سمیت دیگر تینوں ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کر دی تھیں۔

ترجمان اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہےکہ اس سلسلے میں جلد نظرثانی اپیل دائر کی جائےگی جس میں سپریم کورٹ سے عمرشیخ اوراس کے ساتھیوں کی بریت کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی جائے گی جبکہ اس معاملے پر وفاقی حکومت سندھ حکومت سے مکمل رابطے میں ہے۔

اٹارنی جنرل آفس کے ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہےکہ وفاقی اور صوبائی حکومت اس معاملے پر مکمل طور پر رابطے میں ہیں اور سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے پر غور کیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی بریت کا فیصلہ واپس لینے کے لیے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔

ترجمان کے مطابق  وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر شاہ کا کہنا تھاکہ عمر شیخ کی رہائی کے آرڈر پر نظرثانی میں جائیں گے ،عمر شیخ نے ڈینل پرل قتل کیس میں ملوث ہونے کو قبول کیا ہے۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے گزشتہ روز امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس کے ایک ملزم عمر شیخ کی رہائی روکنے کے لیے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کی اور عمر شیخ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اٹارنی جے بلکن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہےکہ امریکہ ماضی میں احمد عمر شیخ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے حوالے سے پاکستان کی حکومت کے اقدامات سے آگاہ ہے اور امید کرتے ہیں پاکستانی قانون کے مطابق انھیں اب بھی حراست میں رکھا جائے گا جبکہ ہم امید کرتے ہیں پاکستانی حکومت جلد ہی اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے قانونی آپشنز کو استعمال میں لائے گی۔