بائیڈن کا پیوٹن کو فون، کئی معاملات پر تحفظات، کشیدگی برقرار

290

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روسی صدر ولایمیر پیوٹن سے بات چیت ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر بات چیت کی۔ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں جو بائیڈن نے روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناولنی کی گرفتاری، ماسکو کی جانب سے سائبر حملے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے سر کی قیمت رکھنے سے متعلق خبروں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ روس سے اختلافات کے باوجود دونوں ممالک نئے معاہدے کے تحت اپنے مفادات کے لیے ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ ادھر ماسکو کی جانب سے جو بائیڈن کے تحفظات کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے باہمی معاہدے (نیو سٹارٹ) میں مزید 5برس تک توسیع کے سلسلے میں پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ معاہدہ آیندہ ماہ ختم ہونے والا ہے اور بائیڈن نے اس میں توسیع کی تجویز پیش کی تھی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا کو ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدے سے الگ کرلیا تھا اور اس کی معیاد کے ختم ہونے کے انتظار میں تھی۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر پیوٹن نے تخفیف جوہری اسلحہ کے معاہدے میں توسیع کے لیے روسی پارلیمان کے ایوان زیریں دوما سے رجوع کیا،جسے منظور کرلیا گیا۔ ادھر امریکی صدر کی پریس سیکرٹری جین پاسکی نے بتایا کہ جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ اگر روس کی جانب سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے پہلے ہی ٹیلی فونک رابطے میں مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آنے کے بعد یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ امریکا اور روس کے تعلقات میں گزشتہ دور حکومت کی طرح سرد مہری برقرار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کو روس کے خلاف سخت ایکشن نہ لینے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ جو وہ روس کے خلاف سخت رویہ رکھیں گے۔