شامی خیمہ بستیوں کی تباہی، ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے

204
دمشق: خیمہ بستیوں میں سیلابی صورت حال اور شدید سرد موسم کے دوران شامی مہاجرین بے یار و مددگار ہو گئے ہیں‘ چھوٹی تصاویر میں بچوں کے چہروں پر خوف عالمی برادری کی بے حسی کو عیاں کررہا ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں شدید بارش اور برف باری سے بے حال شہری اپنی عارضی قیام گاہوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ادلب اور حلب کے صوبوں میں سیلاب کے باعث 87 خیمہ بستیاں جھیلوں میں بدل چکی ہیں۔ وہاں پر درجہ حرارت منفی ہوچکا ہے اور 20 ہزار سے زائد بے گھر افراد کھلے آسمان تلے ٹھنڈ میں ٹھٹھر نے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹ کے مطابق شدید سردی کے باعث ایک بچہ ہلاک ہوچکا ہے۔بستوں میں 15لاکھ سے زائد افراد نے عارضی طور پر رہایش اختیار کررکھی تھی۔ ان میں 80 فیصد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ۔ شام میں اسدی فوج کی بم باری کے بعد سے 10برس کے دوران ایک کروڑ 20لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ ان میں سے 66لاکھ افراد ملک میں بے گھر پھر رہے ہیں، جبکہ 56لاکھ افراد بیرون ملک پناہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ ادھر تُرک تنظیم کیئر کے سربراہ شیرائن ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حلب اور ادلب میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیلاب کے باعث راستے مسدود ہوگئے ہیں اور کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ نامناسب پناہ گاہوں اور بڑھتی ہوئی بھوک کے باعث شدید بحرانی صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ اتوار کے روز سے جاری کاروائیاں کے دوران مختلف امدادی تنظیموں کے اہلکاروں نے ڈھائی ہزار کیمپوں میں 3200متاثرین کو امداد فراہم کی۔