ٹرمپ کا مواخذہ: الزامات کی دستاویز سینیٹ میں پیش

147
واشنگٹن: ایوانِ نمایندگان کے ارکان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف الزامات پر مبنی دستاویزات پیش کرنے کے لیے سینیٹ کے چیمبر میں آ رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کی دستاویز سینیٹ میں پیش کردی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ پر اپنے حامیوں کو بغاوت کے لیے اکسانے اور ہجوم کو کانگریس کی عمارت پر چڑھائی کی ترغیب دینے کے الزامات ہیں۔ 6جنوری کو ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر ہلہ بول کر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کے عمل میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ ایوانِ نمایندگان نے چند روز قبل ہی اُن کے مواخذے کے حق میں قرار داد منظور کی تھی،جس کے بعد اسے اب سینیٹ کو ارسال کردیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن جیمی راسکن نے ٹرمپ کے خلاف الزامات پڑھتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی سیکورٹی اور حکومتی اداروں کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ سینیٹ میں سابق صدر کے خلاف سماعت فروری کے اوائل میں شروع ہوگئی۔ یاد رہے کہ 13 جنوری کو امریکی ایوان نمایندگان نے 197 کے مقابلے 232 ووٹوں سے سابق صدر کے مواخذے کی منظوری دی تھی اور اس دوران 10 ریپبلکن ارکان نے بھی ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ڈونلڈٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں، جنہیں دوسرے بار مواخذے کی کارروائی سے گزرنا پڑرہا ہے۔ اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے اور متناز ع اقدامات کا دفاع کرنے کے لیے انہوںنے 2وکیلوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ بچ بوورز اور ڈیبورا باربر قانون دان ہیں جو کولمبیا اور جنوبی کیرولائنا میں اپنی قانونی فرم بھی چلا رہے ہیں۔ دونوں وکلا سینیٹ میں سابق صدر ٹرمپ کے حق میں دلائل دیں گے۔ سینیٹ کے سب سے سینئر رکن ڈیموکریٹک پارٹی کے پیٹرک لیہی کے مطابق وہ مواخذے کی صدارت کریں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ غیر جانبدار رہیں اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہی ایوان میں کارروائی کو آگے بڑھائیں۔ امریکی آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صدر کے مواخذے کی کارروائی کی صدارت کرتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ اب امریکاکے صدر نہیں اس لیے حکام کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس جان رابرٹ مواخذے کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے۔