یہود کے فلسطینیوں پر حملے، صہیونی فوج کے چھاپے، کئی گرفتار

102
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی سیکورٹی اداروں اور یہودی آباد کاروں کے حملوں سے پریشان فلسطینی غاروں اور ویران مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین میں اسرائیلی حکام کی شہ ملنے پر یہود آبادکاروں نے نہتے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ روز انتہا پسند آبادکاروں کے گروہ نے بیت لحم کے مشرق میں کیسان گاؤں میں فلسطینی چرواہوں پر حملہ کیا،جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق تل ابیب حکومت تیزی سے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کا منصوبہ آگے بڑھارہی ہے ۔ آبادکاروں کے دھاووں کے دوران انہیں پولیس اور فوج کی مکمل سیکورٹی حاصل ہوتی ہے ۔ انتہاپسندانہ کارروائیوں کے باعث نہتے اور بے گھر فلسطینیوں نے اب بیابانوں اور غیر آباد علاقوں میں پناہ لینا شروع کردیا ہے۔ دوسری جانب قابض فوج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں میں کارروائی کرکے کئی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ بیت لحم میں فوج نے دہیشہ مہاجر کیمپ سے 2بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ رام اللہ کے بیر زیت قصبے میں چھاپوں کے دوران بیرزیت یونیورسٹی کے طالب علم عمر ریماوی کوگرفتار کیا گیا۔ اس دوران کئی نوجوانوں کو تفتیش کے لیے طلبی کے نوٹس دیے گئے۔ اس سے قبل صہیونی اہل کاروں نے 2خواتین سمیت مغربی کنارے کے 5 شہریوں کو غزہ کی سرحدی گزرگاہ سے گرفتار کیاتھا۔صہیونی فوجیوں نے 35سالہ ولا الرفائی کو گزرگاہ سے اس وقت حراست میں لیا،جب وہ اپنی بیماری اہلیہ کو لے کر اسپتال جارہے تھے۔