تیونس میں جھڑپیں جاری، ایک شخص ہلاک، کشیدگی میں اضافہ

141
تیونس سٹی: غربت، بدعنوانیوں اور ناانصافیوں کے خلاف پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین اور سیکورٹی ادارے آمنے سامنے ہیں

تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہونے والا شخص اسپتال میں دم توڑ گیا،جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہیکل راشدی مظاہرے کے دوران آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہوگیا تھا۔ موت کی اطلاع ملنے پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور سبیطلہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی ۔ دارالحکومت کے علاقے حبیب بورقیبہ ایونیو میں گزشتہ روز مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور شہریوں نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تیونس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ہزار افراد کو گرفتا ر کیا جاچکا ہے۔ پولیس مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اور شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے۔ وسطی، دیہی اور جنوبی علاقے مظاہروں اور بلووں کی لپیٹ میں ہیں۔ ساحلی شہر سوسہ کے علاوہ اب احتجاج وسطی شہروں سبیطلہ اور القصرین تک پھیل چکا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیونس میں غربت ، بدعنوانیوں اور نا انصافیوں کے خلاف عوامی انقلاب کوایک عشرہ ہونے کو ہے ، لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی شمالی افریقا میں واقع مسلم عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آسکی۔ 10برس کے دوران وہاں کئی بار صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور انتقالِ اقتدارکا عمل پُرامن انداز میں مکمل ہوا ۔ سیاسی میدان میں بہتری کے باوجود اقتصادی مسائل جوں کے توں ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ حکومت کے خلاف جاری احتجاج میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ۔ گزشتہ ہفتے مظاہرین نے احتجاج شروع کیا تھا اور بعض مقامات پر پولیس پر پتھراؤ بھی کیا ۔ جواب میں پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپ اور آنسوگیس کا استعمال کیا تھا۔