شاہ نواز فاروقی کی کتاب’’ تہذیبوں کا تصادم ‘‘ دوسرا ایڈیشن شائع ہو گیا

84

پاکستان کے ممتاز دانشور ،کالم نگار اور مغرب کے باطل نظریات پر کاری وار کرنے والے چیف ایڈیٹر جسارت شاہنواز فاروقی کی کتاب تہذیبوں کا تصادم کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو گیا ہے ۔ اس کتاب میں مصنف نے تہذیبوں کے تصادم کے اسی نظریے کا بھی آپریشن کیا ہے جو آج کل موضوع بحث بنایا گیا ہے ۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ تہذیبوں کا تصادم آج کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ یہ امام غزالی کے افکار میں بھی نظر آنے والی چیز تھی اور سید مودودی ؒ نے بھی اس کا بار بار ذکر کیا ہے ۔ شعراء میں علامہ اقبال اور اکبر الٰہ آبادی بھی اس کا ذکر بھر پور انداز میں کرتے رہے ہیں ۔ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں ایک مضمون کا اضافہ توکیا گیا ہے کوئی مضمون نکالا نہیں گیا ۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ان طبقات کی رہنمائی کرتی ہے جو مصنف نے بیان کیے ہیں کہ ایک مغرب کو مکمل قبول کرنے والے ، دوسرے مغرب ، مشرق کا امتزاج تیار کرنے والے اور تیسرے اسے یکسرمسترد کرنے والے ، مصنف نے ان تینوں طبقوں کی آگہی کے لیے نہایت خوبصورتی سے تہذیبوں کے تصادم کا مطالعہ پیش کیا ہے کتاب کا سبق یہی ہے کہ جب تک مسلمان تہذیبوں کے تصادم کی معنویت نہیں سمجھیں گے اس وقت تک وہ اسلامی تہذیب اور فکر کے احیا کا حق ادا نہیں کر سکیں گے ۔