سو گناہ گار چھوٹ جائیں مگر کسی بیگناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے، سندھ ہائیکورٹ

61

کراچی (اسٹاف رپورٹر) خواتین سے زیادتی کے مقدمات کی تحقیقات میں سائنٹفک اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق دائر درخواست میں ریفارمز کمیٹی نے سندھ ہائیکورٹ میں تفصیلی رپورٹ پیش کردی۔ منگل کو جسٹس محمد علی مظہر کی سر براہی میں 2رکنی بینچ نے خو اتین سے زیادتی کے مقدمات کی تحقیقات میں سائنٹفک اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق نتاشا علی لاکھانی و دیگر کی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس امجد علی سہتو کا کہنا تھا کہ ہر پہلو سے جرم کا جائزہ لینا ہوگا مغرب میں زنا بالرضا جرم نہیں،زیادتی کی نوعیت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے،کچھ دن پہلے بھی ایک کیس آیا جس میں خاتون نے بندے کو پھنسایا ۔ سو گناہ گار چھوٹ جائیں مگر کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔اس موقع پر سر براہ ریفارمز کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم بھی زنا بالجبر اور زنا باالرضا میں پھنس گئے ہیں اور قانون جامع ہونا چاہیے۔ سماعت کے موقع پر نمائندہ محکمہ صحت نے عدالت کو بتایا کہ سندھ بھر میں لیڈی ڈاکٹرز اور ایم ایل اوز کی کمی ہے بعد ازاں عدالت نے صوبائی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 25فروری تک ملتوی کردی۔