حافظ نعیم کی زیر صدارت اجلاس ، 30جنوری کو 50مقامات پر دھرنے دینے کا جائزہ

139

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں ذمہ داران کا ایک اہم اجلاس ہوا ، اجلاس میں کراچی میں درست مردم شماری، کوٹہ سسٹم کے خاتمے ،نوجوانوں کو روزگار دینے ، با اختیار شہری حکومت و فوری بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور شہر قائد کے گھمبیر مسائل کے حل کے لیے اور تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کے تحت جاری ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کا جائزہ لیا گیا اور اسی سلسلے میں ہفتہ 30جنوری کو شہر کے 50مقامات پر دیئے جانے والے دھرنوں کے حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی اور مختلف تجاویز اور آراء کی روشنی میں اضلاع کو ضروری ہدایات دی گئیں اور زور دیا گیا کہ دھرنوں کے حوالے سے اضلاع کی سطح پر موثر منصوبہ بندی اور بڑے پیمانے پر تیاریاں اور انتظامات کیے جائیں۔ اجلاس میں حالیہ دنوں میں حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں شہر بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا بھی جائزہ لیا گیا ،واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے تحت 22جنوری کو یوم احتجاج کے سلسلے میں سینکڑوں مظاہرے کیے گئے تھے جبکہ تمام اضلاع میں بھی دھرنے اور مظاہرے کیے گئے تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر کراچی کو تباہ و برباد کیا ہے ،پی ٹی آئی نے بھی ڈھائی سال میں کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا ۔مردم شماری پر اگر ایم کیوایم کو تحفظات ہیں تو حکومت سے علیحدہ کیوں نہیں ہو جاتی ، کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافے پر ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی ہے ؟۔کراچی سے کسی کو بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے ،پیپلز پارٹی 13 سال سے صوبے میں حکومت کر رہی ہے لیکن کراچی کو آج تک اس کا حق نہیں دیا گیا ، ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام کو سہانے خواب دکھاکر ووٹ حاصل کیے اور سب سے زیادہ کراچی کو ہی تباہ و برباد کیا، ایم کیوایم تمام حکومتوں میں شامل رہی ہے اور اس نے ہر دور میں کراچی کے عوام کا مینڈیٹ فروخت کیا ۔جماعت اسلامی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے 32 نئے کالجز بنائے ، کھیل کے میدانوں اور پارکوں کو آباد کیا ، کراچی کے لیے k-3منصوبہ مکمل کر کے K-4 منصوبہ پیش کیالیکن اس کے بعد مصطفی کمال نے ایک بھی نیا پروجیکٹ نہیں بنایا اور آج تک کراچی کے عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ حکمرانوں کو عوامی مسائل اور مشکلات سے کوئی سرو کار نہیں ہے اسی لیے گھریلو صارفین، صنعتوںاور سی این جی اسٹیشنز کی گیس بند کی جارہی ہے ،بجلی کی فراہمی معطل کی جا رہی ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں مستقل اضافہ کیا جارہا ہے ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،کراچی میٹروپولیٹن سٹی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ تک موجود نہیں ہے ، لاہور میں میٹرو بس اور ٹرین چل رہی ہے ملتان میں میٹرو پراجیکٹ بن رہا ہے ،کراچی کے شہریوں کا کیا جرم ہے جن کے لیے ٹرانسپورٹ نہیں چلائی جا رہی ہے ، کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی ہے نہ پانی ، نوجوانوں کے کھیلنے کے لئے میدان تک موجود نہیں ہے۔