جنوبی ایشیا: ایک نئی ’’فالٹ لائن‘‘ کی فعالی – عارف بہار 

156

امسال پانچ جنوری کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سالگرہ کے موقع پر ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی آواز تنہا نہیں تھی، بلکہ عالمی سیاست کا اُبھرتا ہوا کھلاڑی عوامی جمہوریہ چین بھی اس کا ہم نوا تھا۔ یہ دن 5 جنوری 1949ء کو کشمیر پر سلامتی کونسل کی منظورکردہ قراردادوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اب تک کی صورتِ حال کے مطابق کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات 5 اگست 2019ء سے منجمد ہوکر رہ گئے ہیں۔ شاید ہی تاریخ میں دونوں ملکوں کے تعلقات کا گراف اس قدر نچلی سطح پر پہنچا ہو۔ ماضی کے کشیدہ ادوار کے برعکس موجودہ حالات میں کہیں سے بھی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نام پر آنکھ مچولی جاری رہنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ ماضی کے ایک ایسے ہی کشیدگی سے بھرپور دور میں جب کرگل کی جنگ بھی جاری تھی، دوسری طرف بھارتی قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا اور کچھ دوسرے افراد پاکستانی حکام کے ساتھ ٹریک ٹو مذاکرات میں مصروف دکھائی دیا کرتے تھے۔ اِس بار پاک بھارت تعلقات پردے کے آگے اور پیچھے ایک جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے قطعیت کے ساتھ کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی تک مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ مؤقف حقیقت میں ریاست پاکستان کا سوچا سمجھا مؤقف ہے۔ 5 اگست2019ء کے بعد سے پاکستان نے ایک واضح لکیر کھینچ رکھی ہے۔ لکیر کے ایک طرف وہ ممالک ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں بھارت کے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور دوسری طرف اس فیصلے سے نظریں چرانے والے ممالک ہیں جن کے ساتھ بقول عمران خان اب تعلقات کا ٹمپریچر اوپر نیچے رہنے لگا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ لکیر کھنچ جانے سے حالات اس شعر کی مانند ہوکر رہ گئے ہیں:

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

پانچ اگست کے بعد کے حالات بتا رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کے لیے تر نوالہ نہیں رہا، بلکہ اس ڈیڑھ برس نے کشمیر کو بھارت کے لیے’’گرم آلو‘‘بنا رکھا ہے۔ اس تنازعے کے تین فریق پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام تو 73 برس سے ایک مخصوص کشیدگی کی کیفیت میں ہیں، مگر ان برسوں میں ایک غیر فعال ’’فالٹ لائن‘‘ پانچ اگست کے بعد یکایک فعال ہوگئی ہے۔ اس خاموش اور خوابیدہ فالٹ لائن کا نام عوامی جمہوریہ چین ہے۔ چین کی مسئلہ کشمیر میں موجودہ انداز میں سرگرمی کا ایک دلچسپ تاریخی تناظر ہے۔ 5 جنوری کو کشمیریوں کے یومِ حقِ خودارادیت کے موقع اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی 72ویں سالگرہ کے موقع پرچین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان سمجھے جانے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے ’’کشمیر پر چین اور پاکستان کا ایکا‘‘ کے عنوان سے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک ملاقات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹر پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق ان قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ حالات بہتر ہوتے ہی کشمیر یوں کو آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔ ٹھیک پانچ جنوری کوگلوبل ٹائمز کی طرف سے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں، چارٹر اور دوطرفہ معاہدات پر عمل درآمد کی بات اس بات کی یاددہانی ہے کہ وقت کا دھارا بہنے کے ساتھ ساتھ کشمیر پر چین اور پاکستان کا مؤقف بھی ایک جیسا ہوگیا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ مدتوں پہلے چین کا مؤقف اس سے کچھ مختلف تھا، جس کی بنیاد مغربی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے حوالے سے شک اور خوف کے جذبات تھے۔ امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں قائم وڈرو ولسن سینٹر کے آرکائیوز میں 16فروری 1957ء کی اس گفتگو کا ریکارڈ موجودہے جس میں چین کے وزیراعظم ژوہوانلائی نے بیجنگ میں مقیم پاکستانی سفیر کے ساتھ اقوام متحدہ کے کردار پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی سفیر مسٹر احمد اُس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کا ایک خط لے کر چینی وزیراعظم سے ملے تھے، جس میں مسٹر سہروردی نے چین سے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کے مؤقف کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ آرکائیوز میں موجود ملاقات کے منٹس کے مطابق چینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم سے اقوام متحدہ کے بارے میں بات مت کیجیے، ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم اس ادارے سے نفرت کرتے ہیں، آپ کشمیر کے مسئلے کے حل میں تحمل اپنائیں جس کا مظاہرہ ہم سات آٹھ سال سے تائیوان کے معاملے میں کررہے ہیں۔ چینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سامراجی طاقتیں ایشیا میں کشیدگی کو تصادم میں بدلنا چاہتی ہیں، یہ بہت خطرناک ہے، اور اقوام متحدہ کی کشمیر میں مداخلت سے اچھی چیز برآمد نہیں ہوگی۔

۔63 سال گزرنے کے بعد چین عالمی ادارے میں کشمیریوں کے حق کا سب سے بڑا وکیل اور ترجمان بن کر اُبھرا ہے۔ بالخصوص 5 اگست2019ء کے بعد چین کے کردار نے پاکستان کو اس کا معترف اور مداح بنادیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پانچ اگست کے بعد چین کے کردار کی تعریف کرچکے ہیں۔ اس عرصے میں چین تین بار سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتِ حال پر بحث کرا چکا ہے۔ چین نے پہلی بار کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کھلے بندوں عمل درآمد کرانے کا مطالبہ 1964ء میں کیا جب وزیراعظم ژوہوانلائی پاکستان کے دورے پر آئے۔ اس موقع پر جنرل ایوب خان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے۔ چینی وزیراعظم نے اس کی تائید کی۔ اس سے ایک برس پہلے چین اور پاکستان لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کرچکے تھے جس میں کشمیر کو متنازع تسلیم کرتے ہوئے سرحدی تنازعے کا عبوری حل تلاش کیا گیا تھا۔

چین کو اس مقام تک پہنچانے میں بھارت کے رویّے اور پالیسی کا گہرا دخل ہے۔ گزشتہ برس مئی میں لداخ میں گلوان اور پنگانگ جھیل کے پھوٹ پڑنے والے تنازعات کی بنیاد بھی کشمیر اور پانچ اگست کے اقدامات ہیں۔ تنازعے کا یہ کمبل اب بھارت کے ساتھ چمٹ کر رہ گیا ہے، اور ایک نئی فالٹ لائن کی فعالیت بن گئی ہے، جس کے مقابلے کے لیے اب بھارت دو محاذوں کی جنگ کا نعرہ لگا رہا ہے۔ اس پر مستزاد پاکستان کے وزیراعظم کا یہ اعلان ہے کہ پانچ اگست کا فیصلہ واپس لیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دوری اور ناراضی کا یہ عالم تیسرے فریق کی مداخلت کے لیے ماحول سازگار بنائے ہوئے ہے۔ چین دونوں پڑوسی ملکوں پر تحمل اور برداشت سے کام لینے اور مسئلہ کشمیر کو پُرامن انداز میں حل کرنے کے لیے زور ڈالے ہوئے ہے۔ اس میں نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن اور پانچ اگست کے اقدامات کی کڑی ناقد نائب صدر کمیلا ہیرس کی تھوڑی سی کوشش بھی شامل ہوجاتی ہے تو جنوبی ایشیا کا موجودہ جمود اور تنائوکم ہونے کا معجزہ رونما ہوسکتا ہے۔

(This article was first published in Friday Special)