وزیراعظم اور کسی وزیر کو جوابدہ نہیں ہوں ،وزیر اعلیٰ سندھ

45

کراچی(نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میں وزیر اعظم اور کسی وزیر کو جوابدہ نہیں ہوں، سندھ حکومت حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کو اس شرط پر لینے کے لیے آمادہ ہوگی جب وفاقی حکومت اگلے پانچ سال تک بجلی کی سبسڈی جاری رکھے گی۔ اوجھا کیمپس میں ڈائیگنوسٹک کمپلیکس اور ڈاؤ انسٹیٹیوٹ آف لائف سائنسز کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک چینی سرمایہ کار کمپنی سندھ حکومت کے ساتھ شراکت میں حیسکو اور سیپکو چلانے کے لئے صوبائی حکومت سے رابطے میں ہے۔ انہوں وفاقی وزیر علی زیدی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ایک ذمے دار شخص ہیں اور اس معاملے کو میڈیا پر نہیں اچھالیں گے۔ خط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا خط خفیہ تھا اور سمجھ نہیں آتا کہ میڈیا کو یہ کیسے لیک کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں وزیر اعظم سمیت کسی بھی شخص کو جواب دہ نہیں، میرے جواب کو منفی نہ سمجھا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ صرف صوبائی اسمبلی کو جواب دہ ہے۔ انہوں نے کورونا ویکسین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو ایک خط لکھا ہے جس میں چین سے براہ راست ویکسین خریدنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہونے کے ناتے میں کسی دوسرے ملک سے براہ راست کسی بھی چیز کی خریداری کا اختیار نہیں رکھتا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے انسٹی ٹیوٹ آف لائف سیونگ سائنسز اور ڈائیگنوسٹک کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے فوراً بعد یہاں کا دورہ بھی کیااور ڈائنگوسٹک سہولیات کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے ان کے 100 ملین روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔