واپڈا کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو بجلی بند کردیں گے،مقررین

115

ٹنڈوالٰہیار، میرپورخاص، ٹنڈوآدم، لاڑکانہ، جھڈو (نمائندگان جسارت) حکومت نے واپڈا کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو ملک کی بجلی بند کر کے ملک کا پہیہ جام کردیں گے، ہمارے پر امن احتجاج کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ملک بھر کے واپڈا ملازمین مرکزی چیئرمین عبداللطیف نظامانی کی قیادت میں متحد ہیں اور قائدین کے ایک اشارے پر لاکھوں ملازمین سروں پر کفن باندھ کر اپنے حقوق کے لیے سٹرکوں پر نکل پڑے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین آر او آفس خدا بخش بلوچ نے آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کی مرکزی قیادت کے حکم پر نجکاری کیخلاف ٹنڈوالہٰیار میں حیسکو آفس سے نکلنے والی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کی مرکزی قیادت کے حکم پر ملک بھر میں واپڈا ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال اور دفاتر کو تالے لگا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ بعد ازاں ملازمین نے میرپور خاص روڈ پر دھرنا دے کر شاہراہ کو کچھ وقت کے لیے بند کردیا۔ اس موقع پر خدا بخش بلوچ نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر واپڈا کی نجکاری کی باتیں ہورہی ہیں، ادارے اور ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے ملازمین اور ادارے کے استحصال کے فیصلے کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا ملازمین کے سالانہ الاؤنس تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کیا جائے، اس مہنگائی میں ہمارا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے۔ واپڈا ملازمین کے بچوں کو واپڈا میں ملازمتیں دی جائیں، واپڈا ملازمین کا استحصال بند کیا جائے۔ خالد محمود قائم خانی نے کہا کہ واپڈا کے ملازمین مر کزی چیئرمین عبداللطیف نظامانی کی قیادت میں ملازمین کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے، ہم قائد عبداللطیف نظامانی کی قیادت میں ملازمین سے ناانصافی نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی واپڈا کی نجکاری کو قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت واپڈا، پیپکوکے اداروں کی نجکاری کرنے کی تیاری کررہی ہے، جسے ہم رد کرتے ہیں، واپڈا کی نجکاری ہمیں کسی صورت منظور نہیں، جب تک نجکاری کے فیصلے کو واپس نہیں لیا جائے گا تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واپڈا ملازمین کو ڈینجرز اور ٹیکنیکل الائونس دیا جائے، لائن پر کام کرنے والے ملازمین کو حفاظتی سامان مہیا کیا جائے، ڈیلی ویجز اور ٹی اے بل دیا جائے، اسٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے اور مہنگائی کی مناسبت سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف اداروں کو فروخت کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو دوسری جانب عوام پر مسلسل بجلی مہنگی کرکے ایٹم بم گرایا جارہا ہے، ملک کے تمام اداروں کو تباہی کے دھانے لاکھڑا کیا ہے، پیٹرول کی منصوعات میں اصافے سے مہنگائی کی شرح میں اضافے سے ملازمت پیشہ افراد کے گھروں کا چولہا ٹھنڈا ہورہا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے اداروں کو فروخت کرنا ملک کو فروخت کرنے کے برابر ہے۔ واپڈا کے ملازمین کسی بھی صورت میں واپڈا کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، اب ملازمین نے اپنے سروں پر کفن باندھ لیا ہے۔