پنجاب کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے

104

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیرسردارظفرحسین خان نے صوبائی حکومت کی طرف سے میڈیکل کالجز میں نشستیں کم کرنے کے فیصلہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کا میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں آبادی کے تناسب سے نشستوں میں اضافے کے بجائے 267 نشستیں کم کرنے کافیصلہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے، گورنمنٹ کے میڈیکل کالجز میں گزشتہ کئی برسوں سے3400 نشستیں مختص ہیں جبکہ پنجاب کی آبادی میں کروڑوں افراد اور لاکھوں طلبہ وطالبات کا اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں نے پرائیویٹ سیکٹرمیں میڈیکل کالجزمافیا کو نوازنے کیلیے نشستوں میں اضافے کے بجائے 267 نشستیں کم کرنے کا اعلان کرکے طلبہ وطالبات کوسخت مایوس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں سالانہ 20 لاکھ روپے کے اخراجات اورپھر ڈگری کے حصول کے لیے ایک کروڑ روپے مہیا کرناسفید پوش والدین کے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے ۔اس صورتحال میں جبکہ دیگر صوبے میڈیکل کی نشستوں میں اضافہ کررہے ہیںلیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ پنجاب میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے، پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے والدین اورطلبہ وطالبات میں شدید بے چینی پائی جاہے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لے کر پنجاب میں نشستوں کی تعداد کم ازکم 4000 کروائیں تاکہ ذہین طلبہ، طالبات اپنے تعلیمی ذوق کے مطابق میڈیکل اینڈڈینٹل کالجز میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرسکیں۔پنجاب کی آبادی 12کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اسی تناسب سے گورنمنٹ میڈیکل کالجز میں نشستوں کااضافہ بھی ہونا چاہیے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبا میڈیکل کے شعبے میں تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ملکی معیشت اور دیگر شعبوں کی طرح تعلیم جیسا حساس اور اہم شعبہ بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے غریب اور متوسط طلبا پر تعلیم کے دروازے بند کرکے تعلیمی شعبے کو پرائیویٹائز کرنے کی گہری سازش کی جارہی ہے۔ پہلے ہی پرائیویٹ اداروں کی بھر مار ہے۔ اب میڈیکل کے طلبا پر گورنمنٹ کے کالجز میں نشستیں کم کرنا حکومت کی کھلم کھلا تعلیم دشمنی ہے۔ پنجاب حکومت کو اپنی اس تعلیم دشمن پالیسی کو فی الفور ختم کرنا چاہیے۔ یہ پنجاب کے عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے۔ پنجاب کے عوام حکومت کے اس ناروا فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کریںگے۔