بھارت : مودی سرکار کی 3500 مساجد گرانے کی سازش

186
ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ تعمیر کی جانے والی ’’مسجد احمد اللہ شاہ ‘‘ کا مجوزہ ڈھانچہ۔ چھوٹی تصویر مودی سرکار کی سازش کا بھانڈا پھوڑنے والے آسام کے رکن اسمبلی بدر الدین اجمل کی ہے

 

دسپور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں انتہاپسند مودی سرکار کے ایما پر ساڑھے 3ہزار مساجد کو نشانہ بنانے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس بات کا انکشاف ریاست آسام کے رکن اسمبلی نے کیا ہے۔ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے صدر اور رکن اسمبلی بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اسلام کے خلاف ایک اور سازش کے تانے بانے بن رہی ہے۔ ملک بھر میں ساڑھے 3ہزار سے زائد مساجد انتہاپسند تنظیم کے نشانے پر ہیں اور ان کو منہدم کرنے کی سازش تیار کی جارہی ہے،تاکہ مسلمانوں کے احساسات مجروح کرکے انہیں مزید دبایا جاسکے۔ واضح رہے کہ ریاست آسام میں چند ماہ بعدریاستی انتخابات ہوں گے اور حکمراں جماعت وہاں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے انتہاپسند ہندوؤں کو راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری جانب بابری مسجد سے متعلق عدالت عظمیٰ کے متنازع فیصلے کے بعد مسلمانوں کو دی گئی مسجد کا سنگ بنیاد آج رکھاجائے گا۔نئی مسجد کا نام انگریزوں کے خلاف 1857ء کی جنگ میں شریک احمد اللہ شاہ کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ادھر مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلمان بابری مسجد پر اپنے حق سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے ۔ جس جگہ مسجد تھی وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کی نمایندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نئی مسجد کے سنگ بنیاد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بھارت کے وقف قانون کے خلاف ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سینئر رکن اور عدالت عظمیٰ کے وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہنا تھا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دی تھی، لیکن عدالت نے اس پر غور کیے بغیر ہی اسے خارج کر دیا۔ متبادل جگہ پر نئی مسجدکا سنگ بنیاد رکھ کر مودی سرکار دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ بھارت کے مسلمان بابری مسجد پر عدالت کے فیصلے سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا کوئی مسلمان بھی اس فیصلے سے خوش نہیں ہے،لیکن عدالت کی بالادستی کے باعث اس کے خلاف پرزور آواز نہیں اٹھائی جارہی۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ برس اپنے متنازع فیصلے میں منہدم بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کو ایودھیا ہی میں مسجد کی تعمیر کے لیے 5ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا تھا۔