یوم جمہوریہ ، بھارتی کسان مودی سرکار سے فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار

138
نئی دہلی: بھارتی کسان یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت میں داخلے کے لیے رواں دواں ہیں‘ مودی سرکار کی جانب سے پابندیوں کے باعث پولیس راستے بند کرکے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کررہی ہے

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکاری کی متنازع پالیسی سے تنگ کسانوں نے حکومت کو یوم جمہوریہ پر سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق مشتعل کسانوں نے یوم جمہوریہ پر بی جے پی سرکار کے خلاف 100 کلومیٹر طویل ٹریکٹر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت ان اقدامات سے بوکھلا کر پہلے ہی لال قلعہ کوبند کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، جب کہ کئی علاقوں میں کرفیو جیسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سمیت ملک بھر سے آنے والے 3 لاکھ مظاہرین دہلی کے باہر اشارے کے منتظر ہیں اور کاشتکاروں نے 2 لاکھ ٹریکٹروں کا رخ دہلی کی جانب کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ پر فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بار مودی سرکار کسان مظاہرین سے بری طرح خوف زدہ ہے۔ کسانوں نے فوجی پریڈ کے جواب میں اپنی پریڈ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ کسانوں کے خوف سے لال قلعہ بند کر کے پریڈ کا راستہ کم کردیا گیاہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے ریلی خواتین کے ٹریکٹروں کی الگ قطار ہوں گی۔ مظاہرین 3راستوں پر ٹریکٹروں سے پریڈ کریں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ٹریکٹروں کی لمبی قطاروں کے باعث 44شاہراہیں بند ہیں۔ نئی دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ کسانوں کی پْرامن ریلی میں انتشار پھیلانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم اس کے باوجود 1200ٹریکٹروں کو دارالحکومت کے اردگرد 100 کلو میٹر کا فاصلہ عبور کرنے دیں گے۔کسانوں کے ایک گروہ نے اپنے ارکان کو تشدد سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔ گروہ کے رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد دہلی کو فتح کرنا نہیں ہے، بلکہ علاقے کے لوگوں کے دلوں پر فتح حاصل کرنا ہے۔ احتجاجی رہنما اشوک دھولے نے کہا کہ ہم یہاں دہلی میں کسانوں کی حمایت کرنے کے لیے حاضر ہیں اور صرف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ملک بھر کے کسان مجوزہ قوانین کے خلاف ہیں۔