چند گروپس پڑوسی ممالک کی حمایت سے گڑ بڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں ، سندھ اپکیس کمیٹی

146
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی سندھ کا اجلاس ہورہا ہے

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پڑوسی ملک کی حمایت سے چند گروپس یہاں مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نئے کور کمانڈر، نئے ڈی جی رینجرز کے علاوہ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، آئی جی
پولیس، پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں سے اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں، صوبے میں امن امان قائم کرنے میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت قربانیاں دیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘2015 میں ایپکس کمیٹی قائم کی گئی تھی،اجلاس میں مختلف اداروں نے امن و امان کے حوالے سے ایپکس کمیٹی کو بریفنگ دی۔اپیکس کمیٹی کو بتایا گیا کہ چند گروپس پڑوسی ملک کی حمایت سے یہاں مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں، حال ہی میںقائد میوزیم، ایف جے ہاؤس اور وزیر مینشن کے حوالے سے دھمکیاں موصول ہوئیں ، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور آپس میں رابطوں کی وجہ سے حالات کنٹرول میں ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چند قوم پرست گروہ بھی استعمال ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2020 میں ایک دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں ٹارگٹ کلنگ کے 12 واقعات ہوئے تھے جبکہ 2020 میں 8 واقعات ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ 2019 میں 1539 افراد جبکہ 2020 میں 1525 افراد کے قتل کے واقعات رونما ہوئے، 2019 میں بھتہ خوری کے 166 جبکہ 2020 میں 158 واقعات ہوئے، اغوا کے 2019 میں 72 کیسز جبکہ 2020 میں 207 کیسز سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ جائیداد کے خلاف 2019 میں 17 ہزار 128 کیسز جبکہ 2020 میں 24 ہزار 218 کیسز رپورٹ ہوئے، پراپرٹیز کے کیسز کے بڑھنے کا سبب یہ ہے کہ لوگ ایف آئی آر داخل کروا رہے ہیں جو پہلے کم ہوتی تھیں۔آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ پولیس نے اسٹاک ایکسچینج حملے کو ناکام بنایا جس میں چاروں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حملہ آور مارے گئے تھے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اجلاس کو بتایا کہ 2013ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای اے) پر 51 دہشت گرد حملے ہوئے تھے جبکہ 2014 میں 34، 2015 میں 7، 2016 میں 2، 2017 میں ایک بھی نہیں، 2018 میں 4، 2019 میں ایک اور 2020 میں 9 حملے ہوئے۔اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2019 میں 19 ہزار 468 اور 2020 میں 21 ہزار 118 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات پہلے بھی زیادہ تھے تاہم رپورٹ نہیں ہوتے تھے تاہم اب موبائل چھیننے کے واقعات کا لوگ ایف آئی آر درج کرواتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں گاڑیاں چھیننے کے 1454 اور 2020 میں 2372 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2019 میں بائیک چوری کے 27 ہزار 838 جبکہ 2020 میں 33 ہزار 924 واقعات ہوئے۔سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی فنانسنگ یونٹ نے 2015 سے 2020 تک 10 ارب 24 کروڑ روپے ریکور کیے ہیں جبکہ کل 144 کیسز رجسٹر کیے، 90 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں سے 19 مجرموں کو سزائیں دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 10 مجرمان نے اپیل فائل کی ہیں۔