گرتی پڑتی حکومت

218

ناصر رضوان ایڈووکیٹ یار دلدار ہیں۔ ان سے مل کر زندگی اچھی لگنے لگتی ہے۔ لوگوں پر اعتبار آنے لگتا ہے۔ ان کے چمکتے دمکتے چہرے کو دیکھیں تو جگنو اڑتے، باتیں سنیں تو گلاب مہکتے اور شخصیت کو دیکھیں تو جھکی ٹہنیاں مصور ہوجاتی ہیں۔ کئی دن ہوئے ان کے نئے آفس میں ملاقات ہوئی۔ باتوں کی روانی میں نجانے کیسے خواجہ سرا موضوع بن گئے۔ ناصر رضوان بولے ’’خواجہ سرا آسمان سے نہیں ٹپکے۔ یہ ہمارے ہی بھائی، بیٹے اور رشتہ دار ہیں۔ جو کچھ اور جیسے وہ ہیں یہ ان کی چوائس نہیں ہے۔ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی پسند ہے۔ لیکن ہمارے پاس ان کے لیے توہین، تذلیل اور حقارت کے سوا کچھ نہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہم نے ایک مرتبہ جماعت اسلامی کے ایک دوست کے ہمراہ ان کے لیے گوشت پہنچانے کا بندوبست کیا ساتھ ہی مٹھائی کا اہتمام بھی کردیا۔ شام کو ان کے گرو نے اظہار تشکر کے ساتھ ہمیں ایک ویڈیو بھیجی جس میں مٹھائی کھاتے ہوئے خواجہ سرائوں کے جذبات دیکھے جاسکتے تھے۔ وہ اسے اپنی عزت محسوس کررہے تھے وگرنہ لوگ ان کی مدد بھی کرتے ہیں تو حقارت کے ساتھ توہین آمیز انداز میں‘‘۔ ایک اور طبقہ جس کے لیے ہمارے پاس گالی اور حقارت کے سوا کچھ نہیں وہ کچرا چننے والے بچے اور بڑے ہیں۔ مختلف ویلفیئر اداروں کی طرف سے ایسے محنت کشوں کے لیے شہر میں جگہ جگہ کھانے کا جو اہتمام کیا جاتا ہے، انہیں میز کرسی پر بٹھا کر جس عزت سے کھانا کھلایا جاتا ہے، ان اداروں اور افراد کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے، دل تشکر کے جذبات سے بھرجاتا ہے۔
انفرادی سطح پر اتنا ہی کیا جاسکتا ہے۔ افلاس اور بھوک کا خاتمہ حکومت اور ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ زندگی کی کٹھنائیوں میں یہ حکومتیں ہوتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ کوویڈ19کی تباہی کے بعد جیسے ہی ویکسین کی تیاری کی خبر عام ہوئی تو بیش تر ممالک کے حکمران اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کے لیے اس کے حصول کی کوششوں میں لگ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ دن کا چین اور رات کا آرام تج کر ویکسین کے حصول کے لیے جس طرح کوشاں تھے وہ ایک مثال ہے۔ انہوں نے چند روز کے اندر ویکسین ساز ادارے ’’فائزر‘‘ کو سترہ مرتبہ فون کیا۔ ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت برطانیہ نے 30پونڈ ادا کی تھی لیکن اسرائیل کے وزیراعظم نے گاہکوں کی طویل قطار سے بچنے اور جلد حصول کے لیے ایک خوراک کی قیمت 45پونڈ ادا کی اور اب تک اپنے 18لاکھ شہریوں کو ویکسینیشن کی سہولت مہیا کر چکے ہیں۔ صرف تین ہفتے کے اندر۔ بنگلا دیش حکومت کی پھرتی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ گزشتہ برس دسمبر کی 13تاریخ کو برطانوی دواساز ادارے سے تین کروڑ ویکسین کی خریداری کا معاہدہ کرچکی ہے۔ پچاس پچاس لاکھ کی چھے قسطوں میں اسے بنگلا دیش کو مہیا کیا جائے گا۔
پاکستان میں حکومت کو کورونا ویکسین کے حاصل کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ ہر معاملے میں بے تدبیری، فیصلہ سازی کے بحران اور عدم تیاری کی دھو ل میں چھپنے والی عمران حکومت کی اس عدم توجہ کو بے حسی اور عوام کی طرف پشت کرنے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ ویکسین کی پاکستان میں دستیابی کے لیے مارچ کے مہینے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ وطن عزیز میں عوام کورونا، غربت، بھوک اور بے روزگاری کے سمندر میں اترتے چلے جارہے ہیں، پریشانیاں اور تکالیف انہیں ہر سمت سے گھیرے ہوئے ہیں لیکن حکومت ان کی داد رسی کے بجائے مظالم میں اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔ اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ 15دسمبر سے 15جنوری تک پٹرول کی قیمتوں میں تین مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس کارکردگی پر وزیراعظم عمران خان فرمارہے ہیں نیا سال ترقی کا سال ہے۔ اس پر ایک پرانا لطیفہ سن لیجیے۔ ایک عورت ڈاکٹر کے پاس گئی اور بولی ڈاکٹر صاحب وزن کم کرنے کی کوئی ترکیب بتائیے۔ ڈاکٹر: ’’کوئی کھیل کھیلا کریں‘‘ خاتون: ’’ڈاکٹر صاحب میں تو روز کھیل کھیلتی ہوں‘‘ ڈاکٹر: ’’کون سا‘‘خاتون: ’’چیل اُڑی، کوا اۃڑا، بھینس اُڑی‘‘۔ عمران خان بھی عوام اور ملک کے ساتھ ہر معاملے میں ایسا ہی کھیل کھیل رہے ہیں۔
اٹھارویں صدی کے عظیم انگریزی شاعر الیگزینڈر پوپ نے کہا تھا ’’انسان کے دل میں امید کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا ہے‘‘۔ تحریک انصاف کی حکومت نے مستقبل کی امید تو ایک طرف حال میں بھی اندھیرے ہی اندھیرے بھردیے ہیں۔ ایک نشئی سے پو چھا گیا ’’تم آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہو گے‘‘ نشئی بولا ’’آنے والی نسلوں کو میرا ایک ہی پیغام ہے کہ اگر میری مانو تو نہ آئو، حالات بہت خراب ہیں‘‘۔ امید کے چراغ یکے بعد دیگرے بجھتے چلے جارہے ہیں۔ ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے۔ آج پاکستان میں اکثریت کے سامنے زندہ رہنا دو وقت کی روٹی کا حصول اور دیگر بنیادی ضروریات کی تکمیل تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کی ذمے دار پی ٹی آئی حکومت ماضی کی حکومتوں کو قرار دیتے نہیں تھکتی۔ ابن انشا ایک جگہ لکھتے ہیں ’’ماضی کی کئی قسمیں مشہور ہیں۔ سب سے مشہور شاندار ماضی ہے۔ جس قوم کو اپنا مستقبل روشن نظر نہ آئے وہ اس صیغے کو بہت استعمال کرتی ہے‘‘۔ قوم کی جگہ تحریک انصاف حکومت پڑھ لیجیے مفہوم زیادہ واضح ہوجائے گا۔
ملک میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ یہ بات تحریک انصاف کی حکومت کی نصف مدت کا حاصل ہے۔ کہیں پورا ملک پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین پاور بریک ڈائون کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ ذمے دار کون نواز شریف۔ کہیں پی آئی اے کا جہاز ملائشیا حکومت کی تحویل میں ہے۔ ذمے دار کون نواز شریف۔ کہیں حکومت پاکستان پر جرمانے ہورہے ہیں ذمے دار کون نواز شریف۔ سرکاری افسران عدم تحفظ کا شکار ہاتھ پر دھرے بیٹھے ہیں ذمے دار کون نواز شریف۔ آٹے کی قیمت 35روپے سے بڑھ 75روپے تک جا پہنچی، چینی کی قیمت 55سے بڑھ کر 90روپے کلو تک جا پہنچی، بجلی کی قیمت 11روپے فی یونٹ سے بڑھ کر اوسطاً 28روپے یونٹ تک جا پہنچی۔ ذمے دار کون نواز شریف۔ 2018 میں ساڑھے اکتیس فی صد پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی تین سو روپے سے کم تھی۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد آج چالیس فی صد سے زیادہ ہے یعنی 2018 میں 6کروڑ 90لاکھ تھے آج یہ تعداد 8کروڑ 70لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ عمران خان کی حکومت نہ صرف لوگوں کی معاشی ضروریات سے کٹ کر رہ گئی ہے بلکہ ملک کے امیج اور وقار کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔ آج پاکستان کا منظر نامہ یہ ہے کہ ایک طرف وزراء کے چہکتے بیانات، ہنستے مسکراتے چہرے ہیں، دوسری طرف عوام کے روتے اور ناامید چہرے اور اس صورتحال پر حیران عمران خان جنہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔
منگل کے روز اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ اس سلسلے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ الیکشن کمیشن ہی نہیں عدالتوں پر بھی دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ ناجائز ہتھکنڈوں کے سامنے بہادری اور استقامت سے مزاحمت کریں۔ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت میں تاخیر وہ فالٹ لائن ہے جس نے عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سب کو ایکسپوز کردیا ہے۔ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کی مشترکہ قوت دھاندلی زدہ الیکشن کے بوجھ تلے پستی ہوئی نظر آرہی ہے۔ حکومت کی نصف مدت وزارتیں تبدیل کرنے اور کہہ کر مکرنے میں ضائع کردی گئی ہے۔ عمران خان اپنی سیاسی جدوجہد میں ہر مسئلے کا حل اس آسانی سے پیش کردیا کرتے تھے کہ چٹکی بجانا اس کے سامنے مشکل اور دیر طلب لگتا تھا لیکن جب سے ان کی حکومت آئی ہے ہر مشکل کے سامنے وہ یوں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جیسے شوہر جھگڑالو بیوی کے سامنے تنگ آکر کہتا ہوا ’’بس کر، اج توں تو میری ماں‘‘۔