کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا

211

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ’’وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے کرپشن میں مصروف ہیں، بے روزگاری، اسٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں، پی ٹی آئی، پی پی پی کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر متفق ہیں، وزیر اعظم کا 11 سو ارب روپے کا کراچی پیکیج ابھی تک عوام کو نہیں مل سکا، ہماری نمائندگی وہ لوگ کرتے ہیں، جو کراچی کی آبادی صحیح شمار نہیں کرسکتے، جماعت اسلامی عوامی حقوق کی ترجمانی اور مسائل کے حل کے لیے اس ماہ عظیم الشان ریلی نکالے گی‘‘۔ اربابِ اختیار ہوں یا اربابِ اقتدار بلکہ پورا پاکستان اس بات سے خوب اچھی طرح واقف ہے کہ جب تک کراچی ترقی نہیں کرے گا اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ بات بھی نہیں کہ پاکستان سمیت تمام ’’ارباب‘‘ کراچی کو ترقی نہیں دینا چاہتے لیکن جو بات تمام ’’ارباب‘‘ کے درمیان مشترک ہے وہ یہ ہے کہ کراچی تو بے شک ترقی کرے لیکن وہ تمام انسان جن کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ کراچی کے ہوں، ترقی کا ایک ذرہ بھی ان کے کھاتے میں نہ آسکے۔ دنیا کے طول و عرض میں سیکڑوں ممالک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کے اگر شہر اور دیہات شمار کیے جائیں تو وہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن کیا سارے ملکوں اور شہروں کی اہمیت یکساں ہوا کرتی ہے، کیا دنیا کے سارے ممالک طاقت اور معیشت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں، ظاہر ہے جواب انکار ہی میں آئے گا۔ جس طرح دنیا کے سارے ممالک ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے اسی طرح ہر ملک میں ان کا کوئی ایک شہر ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی اہمیت کئی اعتبار سے دوسرے شہروں سے کہیں زیادہ ہوا کرتی ہے۔
کراچی پاکستان کا معاشی حب کہلاتا ہے۔ یہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی ہو یا وصول ہونے والے ٹیکس، پورے پاکستان کی آمدنی اور ٹیکسوں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر پورے پاکستان کا انحصار ہو، اس کو اس کی جائز ضروریات سے محروم رکھنا اور اس کو اس کے وسائل کے مطابق حقوق نہ دینا ایک ایسی زیادتی ہے جو ایک جانب نہ صرف ظلم ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ عقل و فہم سے ماورا بھی ہے۔ اس ظلم و زیادتی کا سب سے بڑا ثبوت ’’کوٹا‘‘ سسٹم کا آئینی و قانونی نفاذ ہے۔ پوری دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہو گا جس نے اپنے آئین میں ایک ایسی قانونی شق بنائی ہو جس کے تحت اس کے اپنے ہی ملک کے کسی صوبے کے سارے شہریوں پر آئینی اور قانونی پابندیاں عائد کر کے نوکریوں اور تعلیمی میدانوں میں اہلیت کو ختم کر کے غیر شہری آبادی کو فوقیت دی گئی ہو اور وہ بھی قابلیت کا لحاظ رکھے بغیر۔
کراچی دشمنی کا آغاز اس وقت سے ہوا جب کراچی سے دارالحکومت کو منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور اس کے تابوت میں آخری کیل بھٹو دور میں کوٹا سسٹم بنا کر ٹھونکی گئی۔ جو شہر اتنے نامساعد حالات کے باوجود بھی پاکستان کی بے شمار ضروریات پوری کرتا ہے اگر اس شہر اور اس شہر کے باسیوں کی اہمیت کو اسی طرح تسلیم کیا جاتا تو نہ معلوم اس وقت پاکستان معاشی لحاظ سے کتنا مضبوط و توانا ہوتا۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کراچی کو کس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ اسے جس جس شعبے میں بھی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اس سے پاکستان کے لیے آسانیوں کے بجائے مشکلات ہی پیدا ہوئی ہیں۔ مثلاً ملک میں جب جب مردم شماری ہوئی، کراچی کو اس کی اصل آبادی سے آدھا شمار کیا گیا نتیجہ یہی نکلا کی وسائل کی تقسیم میں کمی کی وجہ سے یہ شہر اتنی ترقی نہ کر سکا جتنی اسے کرنی چاہیے تھے۔ کھیلوں میں اس کا جائز حق نہ ملنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے قومی کھیل ہاکی کو برباد کر بیٹھے۔ محض ایک کھلاڑی سے امتیازی سلوک کرکٹ کی تباہی کی شکل میں سامنے آ رہا ہے اور یہی سلوک پاکستان کو فٹبال کے میدان سے دور کرتا چلا گیا۔ بہترین سمندری ساحل رکھنے کے باوجود اپنے ساحلوں کو پر کشش اور خوبصورت نہ بنانے کی وجہ سے سیاحت کو ترقی نہ مل سکی۔ منصوبہ بندی کے بغیر رہائشی آبادیاں بنانے کی وجہ سے بے ہنگم آبادیاں شہر کی زیب و زینت میں حائل ہوگئیں۔ دوسرے صوبوں اور شہروں سے آنے والوں کو سرکاری زمینوں پر ناجائز تعمیرات سے نہ روکنے کے سبب پورا شہر پھوڑوں پھنسیوں میں بدل کر رہ گیا۔
شہر کے باسیوں کا معاشی قتل، اس کے وسائل کا جائز حق نہ ملنا، اس کے تعلیمی اداروں میں دیگر شہروں کا کوٹا بڑھتے چلے جانا، یہاں کے اداروں میں شہر کے باسیوں کو ملازمتیں نہ ملنا، اس کے فٹ پاتھوں پر دکانیں اور سڑکوں پر کرسیاں میزیں لگا کر گزرگاہوں کو اس قدر تنگ کر دینا کہ پیدل گزرنے والوں تک کو دشواریاں پیش آئیں، بجلی گیس اور پانی کی ترسیل کا ناقص ترین انتظام اور شہر کو کچرا کنڈی میں تبدیل کر دینے کی وجہ سے ایک ایسی جماعت جس نے اپنی پوری سیاسی جد وجہد میں کبھی کسی شہر یا علاقائی بنیاد پر کوئی آواز نہیں اٹھائی آج کراچی حقوق ریلی نکالنے پر مجبور نظر آتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس سے پہلے اٹھائی جانے والی آوازیں ان ہی حالات کی پیداوار تھیں جس پر اہل کراچی نے لبیک کہتے ہوئے ان کا ساتھ دیا لیکن بد قسمتی سے آوازیں اٹھانے والوں نے کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنا قبلہ و کعبہ کچھ اور مفادات کو بنا لیا۔ پاکستان اگر واقعی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے تو اسے بہر صورت کراچی پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی، کوٹا سسٹم کو ختم کرنا، یہاں سے حاصل شدہ وسائل کا جائز حصہ اسے دینا، کراچی کی مردم شماری کو درست کرنا، شہروں کی قومی و صوبائی نشستوں کو بڑھانا اور بلدیاتی نظام کو پورے اختیارات کے ساتھ بحال کرنا ہوگا ورنہ یہ گمان کر لینا کہ پاکستان بلحاظ معیشت ایک مضبوط ملک بن سکتا ہے، افسانہ تو ہو سکتی ہے حقیقت کی شکل کبھی اختیار نہیں کر سکتی۔